امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس حوالے سے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہر ماہ تقریباً 150 ارب روپے لیوی کی مد میں وصول کر رہی ہے، جبکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے لیوی ختم کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، سے اس معاملے پر بات کی گئی ہے اور حکومت سے لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم کر دی گئی تو بڑی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو بھی سستا پیٹرول ملے گا۔ اس پر جماعت اسلامی نے تجویز دی کہ مہنگی گاڑیاں رکھنے والے افراد پر زیادہ لیوی عائد کی جائے، جبکہ متوسط اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ مہنگی گاڑیاں خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، وہ زیادہ لیوی بھی ادا کر سکتے ہیں، لیکن عام اور متوسط طبقے کو پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف ملنا چاہیے۔
وزیراعظم سے ملاقات، مزید ریلیف کے لیے وقت مانگ لیا
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر ان کی جدوجہد جاری ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی گئی ہے۔ان کے مطابق وزیراعظم نے عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے وقت مانگا ہے، تاہم جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر کوئی مؤثر اقدام نہ کیا تو جماعت اسلامی احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی اور عوام کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے گی۔
امریکا کے انتخابات اور فلسطین کی صورتحال پر اظہارِ خیال
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے امریکی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا میں ہونے والے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے حامی گروپ کو شکست ہوئی ہے۔فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طوفانِ اقصیٰ کے بعد فلسطینیوں کی مزاحمت کے جواب میں اسرائیل نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور پورے غزہ کو تباہ کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں نے دنیا کو مزاحمت کا مطلب سمجھایا ہے اور ان کی جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ظلم کے خلاف ثابت قدمی کس طرح برقرار رکھی جاتی ہے۔
فارم 47 کی حکومتوں اور کراچی کی صورتحال پر تنقید
حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وفاق اور صوبوں میں قائم حکومتیں فارم 47 کی پیداوار ہیں۔انہوں نے کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ کرپشن نے پورے سندھ کو متاثر کیا ہے۔
نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے، حافظ نعیم
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے، جس میں مسلمانوں اور مزاحمت کرنے والی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے اپنے دورہ ترکیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں فرقہ وارانہ اور مسلکی بحث کے بجائے اسلام کی بات کی جاتی ہے۔