کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے، سرکاری گاڑیوں پر پابندی لگانے اور تعلیمی ادارے فوری کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عیاشی اور فضول خرچی عوام پر بھاری پڑ رہی ہے۔ انہوں نے یہ مثال دی کہ تعزیت اور شادی کی تقریبات کے لیے حکومت کے پروٹوکول میں 36 گاڑیاں موجود تھیں، جبکہ صدر زرداری عید کی نماز کے لیے 27 گاڑیوں کے ساتھ گئے۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی قیمت سے متعلق سمری مسترد کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1300cc سے بڑی سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگائی جائے اور حکومت کی عیاشیاں ختم کی جائیں۔ ساتھ ہی ایران سے تجارت کو فوری بحال کیا جائے اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کیا جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے خطے کی موجودہ کشیدگی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اس کے پیچھے ایسے عناصر ہیں جو اسلحہ بیچتے ہیں اور شیطان کو پوجتے ہیں۔
سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پورے صوبے کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ریڈ لائن منصوبے اور سولڈ ویسٹ کے ذریعے اربوں روپے غبن کیے گئے ہیں، اور کراچی میں بنیادی مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک کو چلانے والے شہر کراچی کو 40 سال میں تباہ کیا گیا اور اب کراچی میں میگا سٹی گورنمنٹ ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں اربوں روپے کے انڈر پاس منصوبے اور دیگر کرپشن کے معاملات عوام کی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیے گئے ہیں، جس سے شہر کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ حال ہے۔