سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے حوثی ملیشیا کے اس دعوے کو بے بنیاد اور غلط قرار دے دیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں قبائلی اجتماعات اور شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور اپنی مشکلات سے توجہ ہٹانا ہے۔ترکی المالکی کے مطابق حوثی ملیشیا یمنی قبائل کو اپنے تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یمنی قبائل ملک کے سماجی اور تاریخی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائل سعودی اور یمنی عوام کے درمیان بھائی چارے اور باہمی رابطوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اتحادی افواج کے ترجمان نے یمن میں سلامتی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی قبائل کو ایسے تنازعات میں استعمال ہونے سے بچانا ضروری ہے جو عوام کی امن، ترقی اور سلامتی کی خواہشات کے منافی ہوں۔
انہوں نے حوثی ملیشیا کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے خطے میں کشیدگی بڑھنے اور یمنی قبائل کو تنازعات میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض اور جنوبی سعودی عرب کی سمت داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات دے چکی ہیں۔ ان واقعات کے باعث خطے میں سکیورٹی صورت حال اور سعودی عرب و یمن کے درمیان کشیدگی پر توجہ مرکوز ہے۔