پشاور: محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری بیان میں ثمر ہارون بلور نے صحت کارڈ کے خاتمے سے متعلق لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان سے منسوب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیان کو جعلی اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے بعض عناصر سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نگار جوہر خان سے منسوب صحت کارڈ کے خاتمے کا بیان حقائق کے منافی ہے اور عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر نوشیروان برکی کی ملازمت ختم کیے جانے (ٹرمینیشن) کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن بھی جعلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتی اور اس کی اولین ترجیح خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت، فلاح و بہبود اور شفاف طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور صحت سمیت دیگر اہم شعبوں میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں جہاں کہیں بھی غفلت، بدعنوانی یا بے ضابطگی سامنے آئے گی، وہاں بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا۔ کسی بھی فرد یا ادارے کو قانون اور ضابطوں سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ثمر ہارون بلور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی اعتماد برقرار رکھنے، شفافیت کو فروغ دینے اور صوبے کے شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے حقائق اور مستند معلومات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔