لاہور(خصوصی رپورٹ ) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری برادری کو سہولتیں فراہم کرنے اور صنعتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے لاہور چیمبر کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ کاروباری برادری کو پالیسی سازی اور معاشی فیصلوں میں شامل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد زمینی حقائق اور معاشی مسائل کو بہتر سمجھتے ہیں۔اجلاس کی صدارت صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے کی، جبکہ سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر خادم حسین چودھری نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سابق عہدیداروں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو مختلف محکموں کے چکروں اور انتظامی تاخیر سے بچانے کے لیے ون ونڈو آپریشن اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی میں پاکستان سٹیل ملز کی تقریباً 6,000 ایکڑ اراضی کو خصوصی اقتصادی زون کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کاروباری برادری کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائے اور تمام پالیسیاں تجارتی نمائندوں کی مشاورت سے مرتب کی جائیں۔صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کا پہیہ چلا رہی ہے، لیکن سرکاری اداروں کے صوابدیدی اختیارات اور بلاجواز کارروائیوں سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معمولی یا قابلِ اصلاح خلاف ورزیوں پر کاروباری اداروں کو فوری سیل کرنے یا ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے اصلاح کا مناسب موقع اور پیشگی نوٹس دیا جائے۔سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کارپوریٹ، سپر اور ڈیویڈنڈ ٹیکسز کے مجموعی بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ نائب صدر خادم حسین چودھری نے زور دیا کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے آسان ضابطہ کاری اور پالیسیوں میں تسلسل انتہائی ضروری ہے۔