خطرناک ملزموں میں سے اکثریت کی موت ساتھیوں کی گولی سے ہوئی
ملزموں پر قتل، بھتہ خوری، ڈکیتی، زیادتی اور سنگین جرائم کے الزامات تھے
لاہور( کرائم رپورٹر)پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیاں زور و شور سے جاری ہیں، چھ ماہ سے زائد عرصے کے دوران تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب نامور جرائم پیشہ افراد سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں، ہلاک ہوئے ملزمان میں سے اکثریت کی موت اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگنے سے ہوئی،ان مبینہ خطرناک وہ ملزمان بھی شامل ہیں جن پر قتل، بھتہ خوری، ڈکیتی، خواتین اور کمسن بچوں سے زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات تھے۔لاہور کے ہائی پروفائل امیر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پنجاب پولیس کے ان کائونٹرز میں حالیہ اضافہ ہے،طیفی بٹ کو گزشتہ روز ہی دبئی سے گرفتار کرکے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔فیصل آباد کے شاہ گینگ کے ارکان، ننکانہ صاحب میں سید والا کے تین ملزمان جن پر ایک خاتون کے سامنے ڈکیتی اور اجتماعی زیادتی کا الزام تھا بھی مقابلے میں مارے گئے،اس کے علاوہ رائیونڈ کے وہ ملزمان جنہوں نے پھل کی خریداری کے تنازعہ پر دو بھائی قتل کیے تھے، وہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔امیر بلاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ اور اس کا قریبی ساتھی احسن شاہ دونوں مبینہ مقابلوں میں مارے گئے۔سی سی ڈی نے لاہور کے نشترٹائون میں کارروائی کی جہاں دو ڈاکو مارے گئے، ان کی شناخت آویز اور ارشاد کے نام سے ہوئی، اقبال ٹائون اور کوتوالی میں ہوئے دو علیحدہ مقابلوں میں ملزمان عثمان خالد اور قاسم مارے گئے۔ان کارروائیوں کے بعد شہری حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کا بلا تفریق قلع قمع کرنے سے امن و امان بہتر ہوا ہے اور عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔تاہم قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے شکوک کا اظہار کیا ہے کہ کچھ ہلاکتیں ممکنہ طور پر اسٹیجڈ ان کا ئو نٹرز یا غیر شفاف حالات میں ہوئی ہیں۔