وزیراعظم کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کادورہ حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائیگا سیاسی و فوجی قیادت
شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مسلح افواج کے سربراہوں کے ساتھ ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا‘قیادت کو خطے کی تازہ صورتحال،روایتی فوجی چیلنجز، ہائبرڈ وار فیئر اور دہشت گردی کے پراکسی نیٹ ورکس پر بریفنگ
وزیراعظم نے نیشنل فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا افتتاح کردیا، سنٹر 50 اداروں کے درمیان پل کا کردار اور قومی انسداد دہشت گردی پالیسی کے مرکز کے طور پر کام کرے گا
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سروسز چیفس کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، اس موقع پر قومی قیادت نے وطنِ عزیز کے دفاع کیلئے پاکستان کے غیر مبہم عزم کا اعادہ کیا اور آپریشنل تیاری مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم آفس کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہا قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان آرمی دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل افواج میں سے ایک ہے۔قومی قیادت نے کہا قوم کی حمایت کے ساتھ، مسلح افواج ملکی سلامتی کے لیے ہر وقت مکمل تیار ہیں، وزیراعظم کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ اورمشرقی سرحد پر بھارت کے جارحانہ اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر قومی قیادت کو علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خطرات کے تناظر پر بھی بریفنگ دی گئی۔ قومی قیادت کو روایتی عسکری اقدامات اور ہائبرڈ وار فیئر کی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم آفس کے مطابق قومی قیادت کو دہشت گرد پراکسیز سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم اور معزز شخصیات نے آپریشنل تیاری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکا کو بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ خودمختاری اور سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے مشکل حالات میں ادارے کی قومی سلامتی سے متعلق باخبر فیصلوں میں کردار کی تعریف کی۔
دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مسلح افواج کے سربراہان کے ہمراہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور قومی سلامتی کے معاملے پر بریفنگ لی۔بعدازاں وزیراعظم نے نیشنل فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر (نیفٹک)کا افتتاح کردیا۔یہ ادارہ 50 سے زائد وفاقی و صوبائی محکموں اور ایجنسیوں کو ایک مرکزی انٹیلی جنس نظام میں ضم کرتا ہے جسے نیشنل ڈیٹابیس کی مدد حاصل ہے۔ قومی سطح کے ساتھ ساتھ یہ نظام صوبائی سطح پر بھی مربوط ہے، جس کے تحت چھ ذیلی انٹیلی جنس سینٹرز (PIFTACs) قائم کیے گئے ہیں۔ان میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں تاکہ مرکز سے لے کر صوبوں تک ایک مربوط معلوماتی نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔ یہ مربوط فریم ورک انٹیلی جنس یکجا کرنے، تجزیہ کرنے اور مثر آپریشنل ردعمل میں ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ادارہ جاتی صلاحیتوں کے مکمل استعمال سے یہ نظام نہ صرف قومی تیاری کو مضبوط بنائے گا بلکہ وسائل کے مثر استعمال اور بروقت ردعمل کو بھی ممکن بنائے گا