خیبرپختونخوا میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی، ڈاکٹر عباداللہ، کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام ف کے پارلیمانی رہنما مولانا لطف الرحمان اور اکرم خان درانی بھی شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی، بابر سلیم، بھی اپوزیشن کو انتخابی عمل میں شامل کرنے پر راضی نہیں ہیں، جس سے سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔دوسری جانب، گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی، نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایک خط میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے مبینہ طور پر دو استعفوں میں دستخط مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے موصول ہونے میں بھی شک ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود، علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوا ہے، لیکن نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے میدان تیار ہے۔
اسپتال کے مطابق، پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلز پارٹی کے ارباب زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے شاہجہاں یوسف کے کاغذات منظور کر لیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر، اپوزیشن کے کچھ ارکان پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ روز ہی پٹیشن تیار کر لی تھی، اور ممکن ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دائر کرے۔ سیاسی حلقوں میں یہ صورتحال خیبرپختونخوا کے سیاسی میدان میں ہلچل کا سبب بنی ہوئی ہے، اور آئندہ کے اقدامات کا انتظار ہے۔