واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور نئی برآمدی پابندیاں عائدکئے جانے کے فورا بعد کرپٹو کرنسی مارکیٹ شدید دبائوکا شکار ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں تقریبا 19 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے اپنی قدر کھوبیٹھے۔ڈیٹا ٹریکر پلیٹ فارم کوئن گلاس نے اس تاریخی زوال کو کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی لیکوئڈیشن ایونٹ قرار دیا ہے۔ جس میں لاکھوں صارفین نے اپنی پوزیشنز بند کردیں اور اپنی سرمایہ کاری محفوظ اثاثوں یا دوسرے کوئنز کی جانب منتقل کرنا شروع کر دی۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت میں 12 فیصد کمی ہوئی، جو اس ہفتے کے آغاز میں $125،000 کی ریکارڈ سطح پر تھی، مگر گراوٹ کے بعد $113،000 سے نیچے آ گئی۔دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریم بھی بھی شدید لیکویڈیشن کا شکار ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے ممکنہ تجارتی جنگ کے خدشے کے پیش نظر جلدی میں اپنی سرمایہ کاری نکالنا شروع کر دی۔مارکیٹ میں بے یقینی بڑھنے کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ اسٹیبل کوئنز یا دیگر محفوظ اثاثوں جیسے سونا اور امریکی ٹریژریز کی جانب منتقل کرنا شروع کر دیا جس سے ان اثاثوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اس صورتحال میں دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائی نینس کو بھی صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا۔