محمد ندیم بھٹی
جب کسی قوم کے ڈاکٹر جو اس کے سب سے زیادہ محنتی، ذہین اور حساس اذہان ھوتے ہیں ان کو بیرونِ ملک ایسے نظاموں میں دھکیل دیا جائے جہاں ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور بنیادی حقوق مجروح ھوں، تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں رہتی بلکہ ایک گہرا انسانی المیہ بن جاتی ھے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ذریعے برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) میں جانے والے پاکستانی ڈاکٹروں کا تجربہ اس بات کی ایک تلخ مثال ھے کہ کس طرح نیک نیتی پر مبنی بین الاقوامی تعلیمی شراکت داریاں شفافیت، جوابدہی اور انسانی وقار کے احترام کے فقدان میں بکھر جاتی ہیں۔
ابتدا میں ان ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ شراکت داری مکمل طور پر تعلیمی نوعیت کی ھے۔ اس میں منظم تربیت، مناسب رہنمائی، سپروائزڈ روٹیشنز اور عالمی طبی معیار سے روشناس کرانے کا وعدہ شامل تھا۔ مقصد پیشہ ورانہ نکھار تھا۔ایسی کلینیکل مہارت اور بین الاقوامی تجربہ جو وطن میں ممکن نہ تھا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ وعدہ کمزور پڑتا چلا گیا۔ تعلیمی ڈھانچہ آہستہ آہستہ ایک سروس بیسڈ بندوبست میں بدل گیا، جہاں ڈاکٹروں کو سیکھنے والوں کے بجائے افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ تدریسی سیشنز، رہنمائی اور علمی ترقی پس منظر میں چلی گئی، اور ڈاکٹر پیشہ ورانہ جمود اور ذہنی تھکن کا شکار ھونے لگے۔
اس تبدیلی کے اثرات محض ہسپتالوں تک محدود نہ رھے۔ ذاتی زندگیاں متاثر ہوئیں، ذہنی صحت کو نقصان پہنچا اور خاندانی استحکام متزلزل ھوا۔ ڈاکٹر غیر یقینی صورتحال میں پھنس گئے، جہاں سخت سروس ڈیمانڈز، غیر واضح معاہدے اور ادارہ جاتی عدم تعاون ان کا مقدر بن گیا۔ جو موقع کیریئر میں بہتری کا ذریعہ بتایا گیا تھا، وہی ذہنی دباؤ اور مایوسی کی وجہ بن گیا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ اثرات ان ڈاکٹروں پر مرتب ہوئے۔ خاندان بہتر مستقبل، معیاری تعلیم اور استحکام کی امید لے کر برطانیہ پہنچے تھے، مگر بچوں کو تعلیم میں بار بار تعطل، جذباتی دباؤ اور سماجی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ اچانک رہائش کی تبدیلیاں، غیر یقینی ملازمت کے حالات اور والدین پر مسلسل نفسیاتی دباؤ نے عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا۔ کئی بچے نئے تعلیمی نظام اور سماجی ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو سکے، جبکہ پالیسی فریم ورک ان کی جذباتی اور تعلیمی ضروریات کو تسلیم کرنے یا حل کرنے میں ناکام رہا۔ خاندان تنہا چھوڑ دیے گئے، اور شکایات کے ازالے یا مدد حاصل کرنے کا کوئی واضح نظام موجود نہ تھا۔
یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم (UHB) میں نئے چیف میڈیکل آفیسر (CMO) کی تعیناتی کے بعد انتظامی ناکامیاں مزید گہری ہو گئیں۔ جہاں پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے دور میں پروگرام کی توسیع کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی، بعد کے مرحلے میں خاموشی، عدم شفافیت اور خفیہ اندرونی جائزوں کا آغاز ھوا ،اکثر CPSP کو اعتماد میں لیے بغیر۔ یہ طرزِ عمل گورننس اور نیت دونوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ھے۔ آخر یہ کیسے ممکن ھوا کہ وہ ادارہ جو ڈاکٹروں کو بھیجنے کا ذمہ دار تھا، لاعلم رہا، جبکہ رپورٹس ایک معتبر طبی جریدے تک پہنچ گئیں؟
یہ اعتماد کی صریح خلاف ورزی ھے اور بین الاقوامی تعاون کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیتی ھے۔
یہ طرزِ عمل محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی جھلک ھے، جس میں ترقی پذیر ممالک کے پیشہ ور افراد کو انسان نہیں بلکہ محض افرادی قوت سمجھا جاتا ھے۔ برسوں کی سخت تربیت کے بعد تیار ھونے والے ڈاکٹروں کو فوری اسٹافنگ ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ ان کے تعلیمی مقاصد نظر انداز کر دیے گئے۔ اس رویے نے پیشہ ورانہ شناخت اور اعتماد کو مجروح کیا اور طویل المدتی مایوسی اور غصے کو جنم دیا۔ اگر منصوبہ بندی، رہنمائی اور معاہدوں کی پاسداری کی جاتی تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
ایک بار پھر، سب سے زیادہ نظرانداز کیے گئے فریق بچے ہی تھے۔ والدین پر مسلسل دباؤ اور ادارہ جاتی خاموشی نے انہیں اپنے بچوں کی تعلیم، جذباتی صحت اور خاندانی زندگی کے تحفظ سے قاصر کر دیا۔ ان بچوں نے انتظامی بے حسی کی خاموش قیمت ادا کی۔ یہ محض پیشہ ورانہ غفلت نہیں بلکہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ھے، جو اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال اور عالمی اخلاقی اصولوں کے منافی ھے۔ اس کے طویل المدتی نفسیاتی اور سماجی اثرات جوانی تک برقرار رہ سکتے ہیں ,CPSP کا شراکت داری ختم کرنے کا فیصلہ کسی دشمنی کا اظہار نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ یہ ادارہ جاتی وقار، قومی خودداری اور ڈاکٹروں اور ان کے بچوں کے بنیادی حقوق کے دفاع کا قدم تھا۔ اس فیصلے کے ذریعے CPSP نے عالمی اداروں کو واضح پیغام دیا کہ طبی پیشہ ور محض سروس یونٹس نہیں ھوتے۔ ایک ڈاکٹر والد، والدہ، نگہداشت کرنے والا اور خاندانی استحکام کی بنیاد بھی ھوتا ھے۔ جب اعتماد ٹوٹتا ھے اور حقوق پامال ھوتے ہیں تو نقصان نسلوں تک پھیل جاتا ھے۔
UHB–CPSP کا تجربہ صرف ایک شراکت داری تک محدود سبق نہیں۔ عالمی طبی نظاموں کو سمجھنا ھوگا کہ تربیتی پروگرام محض سروس انتظامات نہیں بلکہ انسانی نظام ھوتے ہیں۔ تعلیم، وقار، شفافیت اور خاندانی فلاح کو پالیسی سازی کا لازمی حصہ ھونا چاہیے۔ ان پہلوؤں کو نظرانداز کرنے سے ناگزیر طور پر بداعتمادی، مایوسی اور ادارہ جاتی زوال جنم لیتا ھے، جو بالآخر صحتِ عامہ کے معیار کو بھی متاثر کرتا ھے۔
تاریخ گواہ ھے کہ ادارہ جاتی ناکامی کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں ھوتی بلکہ خاموشیوں، خفیہ عمل اور اعتماد شکنی کے تسلسل سے جنم لیتی ھے۔ UHB–CPSP کیس بین الاقوامی طبی تعاون میں جوابدہی، کھلے رابطے اور ہمدردی کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ھے۔ ان حفاظتی اصولوں کے بغیر، بہترین منصوبے بھی بکھر جاتے ہیں ,اور ان کے ساتھ ماہر پیشہ ور افراد کے خواب اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی۔میری تحقیق کے مطابق UHB–CPSP کا واقعہ اس حقیقت کی طاقتور یاددہانی ھے کہ عالمی طبی شراکت داریاں محض تجارتی معاہدے نہیں بلکہ اخلاقی عہد ھوتی ہیں۔ CPSP کا مؤقف ثابت کرتا ھے کہ ڈاکٹروں اور ان کے خاندانوں کا تحفظ ادارہ جاتی ساکھ اور قومی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں۔ اگر عالمی ادارے اس اصول کو قبول کرنے میں ناکام رھے تو وہ نہ صرف صلاحیتیں کھو دیں گے بلکہ اس اخلاقی بنیاد کو بھی، جس پر حقیقی تعاون قائم ھوتا ھے۔