شرجیل انعام میمن، سینئر صوبائی وزیر سندھ، نے اپنی حالیہ گفتگو میں سندھ کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت اور اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبے، جن میں کوسٹل ہائی وے، روہڑی گڈو بیراج روڈ، مہران ہائی وے، ٹنڈو الہیار سے ٹنڈو آدم سڑک، اور سانگھڑ سے روہڑی تک شاہراہ شامل ہیں، نہ صرف صوبے کے اندرونی روابط کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ علاقائی اور بین الصوبائی سطح پر بھی تیز رفتار نقل و حمل اور تجارت میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ یہ سڑکیں اور ہائی وے علاقے کے اقتصادی شعبوں، بالخصوص تجارت، زراعت، اور صنعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں، جس سے صوبے کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ مزید برآں، یہ منصوبے دیہی علاقوں کی معیشت کو بھی فعال بنا رہے ہیں اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں، جس سے غربت میں کمی اور معاشرتی ترقی کو فروغ مل رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ سندھ حکومت کی ترجیح ترقی کے عمل میں شفافیت، رفتار، اور عوامی مفادات کا تحفظ ہے۔ اس مقصد کے لیے، فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبوں کی مکمل نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو مناسب اور مساوی ترقیاتی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
شرجیل میمن نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ریکنسٹرکشن پروجیکٹ کا ذکر بھی کیا، جس کے تحت سندھ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سندھ حکومت نے بحالی کے عمل کو بہت تیزی سے شروع کیا اور اس میں وفاقی حکومت اور دیگر اداروں کے تعاون سے ایک موثر ماڈل قائم کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی اور ان کے دائرہ کار میں اضافہ، صوبے کی طویل المدتی ترقی اور معیشتی استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ تمام اقدامات سندھ کی معیشت کو مضبوط بنانے، مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے، اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ایک مثبت قدم ہیں۔