سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اہم ترقیاتی اور ڈیجیٹل اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بیان دیا ہے، جس میں مختلف مالی، انفراسٹرکچر اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ میں 635 مقدمات میں 342 ارب روپے بینک گارنٹیوں کی صورت میں منجمد ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے سندھ ڈیولپمنٹ اینڈ مینٹیننس آف انفراسٹرکچر سیس کے تنازع کے جامع تصفیے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت تسلیم شدہ واجبات کا 15 فیصد تین مراحل میں ادا کیا جائے گا اور باقی رقم 12 مساوی سالانہ اقساط میں وصول کی جائے گی۔اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن نظام ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ ہے۔ اس نظام کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اب پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ذاتی حاضری کے بغیر اور بائیومیٹرک و چہرے کی تصدیق کے ذریعے عمل کر سکیں گے۔ نئے نظام سے پراپرٹی فراڈ کے امکانات بھی کم ہوں گے اور اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہوگا۔ ای اسٹیمپنگ نظام بھی سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے سپرد کیا جائے گا تاکہ صوبے کی ڈیجیٹل خودمختاری مضبوط ہو۔
ان کے مطابق سندھ میں مختلف ترقیاتی منصوبے بھی زیر عمل ہیں، جن میں لاڑکانہ میں 4.8 ارب روپے کی لاگت سے جدید فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کا قیام شامل ہے، جس میں باؤنڈری وال، جدید ڈرینیج سسٹم، انتظامی بلاک، طبی سہولیات، بینکنگ سروسز اور گرین بیلٹ شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ زرعی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عمل میں لایا جا رہا ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ شہریوں کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت ری ایکسپورٹ پر مکمل استثنا دے کر تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ماحولیاتی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انڈس ڈیلٹا میں محفوظ مینگروز کے رقبے میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور ضلع سجاول کی 405,002 ایکڑ انٹر ٹائیڈل زمین کو پروٹیکٹڈ فاریسٹ قرار دیا گیا ہے، جو سمندری طوفانوں اور مدوجزر کے خلاف قدرتی ڈھال کا کام کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی معیار کے مطابق 25 فیصد جنگلاتی رقبہ ہونا چاہیے، جبکہ سندھ میں اس وقت صرف 10 فیصد محفوظ ہے، اور اس فیصلے سے پہلے سے محفوظ 566,298 ہیکٹر رقبے میں مزید اضافہ ہوگا۔مختصر یہ کہ شرجیل میمن کے اقدامات میں مالی تصفیہ، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے آسانیاں، جدید انفراسٹرکچر منصوبے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں، جو صوبے کی ترقی اور عوام کی سہولت کے لیے اہم ہیں۔