لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 310 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔سب سے زیادہ آلودہ علاقے راوی روڈ ہے، جہاں AQI 696 تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اے سی آفس شالیمار کے اطراف میں AQI 695 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن کے اطراف میں AQI 539، سی ای آر پی کے قریب 517 اور پنجاب یونیورسٹی کے اطراف 515 AQI کی سطح دیکھی گئی ہے۔ دیگر علاقوں میں ایف ایف پاکستان کے اطراف 491، ساندہ میں 481 اور ڈی ایچ اے فیز 8 کے اطراف 478 AQI رپورٹ ہوا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار "خطرناک زون" میں شامل ہیں، جو شہریوں کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ موسم کے حوالے سے شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 اور کم سے کم 12 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جبکہ ہوا کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور نمی کا تناسب 80 فیصد ہے۔
محکمہ ماحولیات نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور بچوں و بزرگوں کو آلودہ فضا سے بچائیں۔ اس کے علاوہ، اسموگ الرٹ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کیا ہے۔ صوبہ بھر میں یہ چھٹیاں 22 دسمبر 2025 سے 9 جنوری 2026 تک جاری رہیں گی، اور سکولیں 12 جنوری کو دوبارہ کھولیں گی۔ یہ شیڈول سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی اداروں پر لاگو ہوگا، اور کسی بھی ادارے کو اپنے طور پر شیڈول تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد سردی کی شدت اور طلبہ کی صحت کے تحفظ کے لیے ہے، تاکہ بچے بیماریوں سے بچ سکیں اور تعطیلات کے دوران بہتر تیاری کے ساتھ اگلے تعلیمی سیشن کا آغاز کریں۔ والدین اور اساتذہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تعطیلات میں بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھیں تاکہ پڑھائی کا سلسلہ جاری رہ سکے۔