پنجاب میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر، لاہور سمیت کئی شہروں میں صحت کے لیے تشویشناک صورتحال

پنجاب میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر، لاہور سمیت کئی شہروں میں صحت کے لیے تشویشناک صورتحال

پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح ایک بار پھر تشویشناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔

 ہفتہ کو جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، شیخوپورہ 257 اے کیو آئی کے ساتھ سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار پایا، جبکہ فیصل آباد 253 اور لاہور 241 کی سطح کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ گوجرانوالہ میں فضائی آلودگی کا انڈیکس 208، ڈیرہ غازی خان 167، سرگودھا 151، بہاولپور 143، سیالکوٹ 139، ملتان 132 اور راولپنڈی 110 تک پہنچ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق، 200 سے زائد اے کیو آئی کی سطح انسان کی صحت کے لیے انتہائی مضر تصور کی جاتی ہے، جبکہ 150 سے زائد درجہ غیر صحت بخش ہوتا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی آلودگی کی شدت میں نمایاں فرق دیکھا گیا، جہاں سب سے زیادہ آلودہ علاقہ سفاری پارک رہا، جہاں اے کیو آئی 339 تک پہنچ گیا۔ برکی روڈ پر یہ سطح 322، ملتان پر 298 اور شاہدرہ میں 220 ریکارڈ کی گئی ہے۔ دیگر اہم مقامات میں جی ٹی روڈ 213، کاہنہ نو 207، پنجاب یونیورسٹی 199 اور ڈی ایچ اے فیز 6 187 کے قریب تھے۔ یہ تمام سطحیں عالمی ادارہ صحت کے معیار سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

حکام کے مطابق، مشرقی پنجاب (بھارت) سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے لاہور اور وسطی پنجاب کی فضا کو متاثر کیا ہے۔ اسموگ نگرانی و پیشگی نظام کے مطابق، اگلے چوبیس گھنٹوں میں اوسط اے کیو آئی 220 سے 240 کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ مقامی ہواؤں کا رخ لاہور کی جانب ہونا ہے۔ علاقائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ لدھیانہ، جالندھر اور ہریانہ کے صنعتی و زرعی علاقوں سے اٹھنے والا دھواں لاہور، فیصل آباد اور شیخوپورہ تک پہنچ رہا ہے۔ بھارت کے پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث PM2.5 اور PM10 ذرات کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے سموگ کی شدت کو برقرار رکھا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ فضائی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔