حکومت اور اپوزیشن آپس میں بیٹھیں گے تو راستے نکلیں گے ایازصادق آپ سے مذاکرات نہیں کرینگے محمود اچکزئی

 سپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت سے  اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات کی سہولت کاری کے لئے تیار ہوں‘ مذاکرات کا عمل جاری رکھنے سے نتائج ضرور نکلیں گے:ایازصادق
 پاکستان میں عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی جاری ہے :اچکزئی قومی اسمبلی میں اظہار خیال ‘ترمیم کی کاپی پھاڑ دی
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز نے قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بیٹھیں گے تو راستے نکلیں گے،اگر پہلے دن کچھ نہ نکلے بھی تو مذاکرات کا عمل جاری رکھنے سے نتائج ضرور نکلیں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک موقع پر سپیکرسردار ایازصادق نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ وزیرِ اعظمِ پاکستان میاں شہباز شریف نے اس ہاؤس میں کھڑے ہو کر اپوزیشن کو بار بار مذاکرات کی دعوت دی،وفاقی وزیرِ قانون و 
انصاف نے بھی متعدد مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی، میںبحیثیتِ اسپیکرِ قومی اسمبلی اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے تیار ہوں۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بیٹھیں گے تو راستے نکلیں گے، اگر پہلے دن کچھ نہ نکلے بھی تو مذاکرات کا عمل جاری رکھنے سے نتائج ضرور نکلیں گے، مذاکرات کے پلیٹ فارم پر حکومت اور اپوزیشن کو لانا میرا کام ہے‘دریں اثناء قومی اسمبلی  اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی نے ستائیسویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی۔ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ حکومت فارم 47 پر قائم کی گئی ہے، اس ایوان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 6 ہزار ووٹوں سے ہار رہا تھا، جو 6 ہزار ووٹوں سے ہار رہا تھا اسے کہا گیا آپ کو بنا دیتے ہیں اس نے منع کردیا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایک اور آدمی نے بھی منع کر دیا، اب یہ بتائیں ایسی پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا جا سکتا ہے، پاکستان میں عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے آئین میں غیر جمہوری قسم کی ترمیم پر دکھ ہوتا ہے، ترمیم میں وہ لیڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے بہت بڑی قربانیاں دیں، پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی جاری ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی تحریک انصاف اچھا یا برا آدمی ہے، آپ نے اسے کیوں وزیراعظم بننے دیا، ملک کی اعلی عدلیہ ایک پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیتی ہے، تحریک انصاف نے مختلف انتخابی نشانوں پر الیکشن لڑ کر ملک کی کایا پلٹ دی