غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید اموات، عالمی امدادی گروہ اور اقوامِ متحدہ کی شدید مذمت

غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید اموات، عالمی امدادی گروہ اور اقوامِ متحدہ کی شدید مذمت

ویب ڈیسک:غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بربریت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور حالیہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں گزشتہ رات تک 64 فلسطینی اور 28 لبنانی شہید ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل نے شمالی غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے صرف ایک مشن کو جانے کی اجازت دی تھی، اور جیسے ہی امدادی سامان کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا، اسرائیلی فوج نے غزہ کی پناہ گاہوں پر حملہ کر دیا۔اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا غزہ میں بین الاقوامی جرائم کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے غزہ میں ہونے والی بڑی اموات کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ غزہ میں قحط کا سنگین خطرہ ہے، اور فوری طور پر عالمی برادری کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے۔

امریکا کا اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کا عہد

امریکا نے اسرائیل کی حمایت کا عہد دہرایا ہے، اور بائیڈن انتظامیہ نے اس بات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد سے متعلق کسی قسم کی خلاف ورزی کی ہو۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کی محدودیت کی مخالفت کرے گا۔

بین الاقوامی امدادی گروہ اسرائیلی اقدامات پر تنقید

بین الاقوامی امدادی گروہ نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا ہے، اور اس کے اقدامات نے غزہ کی صورت حال کو مزید پیچیدہ اور خراب کر دیا ہے۔ عالمی امدادی تنظیموں نے اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں بڑھتے ہوئے بحران کی نشاندہی کی ہے۔

فلسطین کے ایلچی کی سلامتی کونسل سے فوری اقدامات کی درخواست

اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے ایلچی ریاض منصور نے سلامتی کونسل سے غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی۔ انھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی ضم کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام ایک بار پھر موت، بے دخلی اور نقل مکانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

حماس کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف بیان

حماس نے امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں دیے گئے بیان کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔یہ تمام صورتحال غزہ میں جاری انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے، اور عالمی برادری سے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔