تہران: ایران نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عالمی ادارہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور مبینہ مظالم کو نظرانداز کر رہا ہے، جبکہ ایران کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو کے مینڈیٹ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سیاسی محرکات پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مینڈیٹ کا مقصد بیرونی جارحیت، مبینہ مظالم اور یک طرفہ پابندیوں کے اثرات سے توجہ ہٹانا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے لیے خصوصی نمائندہ کا مینڈیٹ برطانیہ نے انسانی حقوق کونسل پر مسلط کیا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو سیاسی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ خصوصی نمائندہ کے عہدے کو امریکا اور اسرائیل کی مبینہ کارروائیوں کا ذمہ دار تہران کو ٹھہرانے کے لیے استعمال کرنا گمراہ کن اور غیر دیانت دارانہ طرزِ عمل ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹنگ میں خطے میں جاری تنازع اور ایران کو درپیش مشکلات کے تمام پہلوؤں کو یکساں اہمیت نہیں دی جا رہی۔بقائی کا یہ ردعمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے لیے خصوصی نمائندہ مائی ساتو کی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں ایران کے اندر انسانی حقوق کی صورتحال اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا، تاہم اس میں ایرانی حکومت کے اقدامات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تہران حکومت نے خطے میں جاری تنازع کو اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے لیے استعمال کیا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایرانی حکام نے اس دوران مخالف آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت پیدا کی اور گرفتاریاں کیں۔ رپورٹ میں بیرونی فوجی کارروائیوں کے عام شہریوں پر اثرات کے ساتھ ساتھ ایران کے اندر شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔