نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی انتظامیہ کے لیے چند اہم نامزدگیاں کی ہیں، جن میں سی آئی اے کے سربراہ، مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی، اور اسرائیل میں امریکی سفیر کے نام شامل ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے ڈونر اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اسٹیو وٹکوف کو مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وٹکوف امن کی خاطر ایک مضبوط آواز ثابت ہوں گے۔ تاہم، 67 سالہ وٹکوف کو سفارت کاری یا خارجہ پالیسی کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ہے، جس پر کچھ حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔اسرائیل میں امریکی سفیر کے طور پر ٹرمپ نے سابق گورنر مائیک ہکابی کو نامزد کیا ہے، جو مغربی کنارے کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے مخالف ہیں اور حماس سے جنگ بندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ہکابی بہترین عوامی خدمت گزار رہے ہیں اور اسرائیل سے ان کی محبت اور عوامی مقبولیت انہیں اس عہدے کے لیے موزوں بناتی ہے۔ ہکابی کی بیٹی سارہ ہکابی سینڈرز آرکنساس کی گورنر ہیں اور وہ پہلے بھی ٹرمپ انتظامیہ میں بطور پریس سیکرٹری خدمات انجام دے چکی ہیں۔
سی آئی اے کے نئے ڈائریکٹر کے لیے سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس جان ریٹکلف کو نامزد کیا گیا ہے، جو پہلے ہی ٹرمپ کی حمایت کے باعث تنازعے کا شکار رہ چکے ہیں۔ ریٹکلف پر سابقہ دور میں بھی تنقید ہوئی کہ ٹرمپ نے انہیں انٹیلی جنس ایجنسی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے مقرر کیا تھا۔علاوہ ازیں، ٹرمپ نے جیوئش امریکن لی زیلڈین کو انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کا سربراہ نامزد کیا ہے، جنہوں نے بائیڈن کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسیوں کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 نومبر 2024 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دی اور دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 20 جنوری کو 47ویں امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔