ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں نئی تقرریاں: ایلون مسک اور ویوک رام سوامی کو اہم عہدے مل گئے

ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں نئی تقرریاں: ایلون مسک اور ویوک رام سوامی کو اہم عہدے مل گئے

ویب ڈیسک:امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے منتخب ہونے سے پہلے ہی اپنی کابینہ کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے اور کئی اہم تقرریاں کی ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ٹرمپ نے ایلون مسک اور سابق ری پبلکن صدارتی امیدوار ویوک رام سوامی کو محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (Department of Government Efficiency - DOGE) کی سربراہی کے لیے نامزد کیا ہے۔

ایلون مسک کی تقرری ٹیسلا اور ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک، جو دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، کو ٹرمپ انتظامیہ کے مشیر کی حیثیت سے ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایلون مسک کی ذمہ داری بیوروکریسی کی اجارہ داری کو ختم کرنا اور وفاقی ایجنسیوں کی ساخت میں اصلاحات کرنا ہوگا۔ ان کا مقصد حکومت کے اخراجات میں کمی اور وفاقی ایجنسیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ مسک نے اس عہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد امریکی بجٹ سے 2 کھرب ڈالر بچانا ہے۔

ویوک رام سوامی اور دیگر تقرریاں ویوک رام سوامی بھی اس عہدے پر مسک کے ساتھ کام کریں گے۔ رام سوامی نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھرپور تعاون کیا تھا، اور اب انہیں بھی اہم حکومتی امور میں شامل کیا گیا ہے۔

پیٹ ہیگستھ کا انتخاب وزیر دفاع کے لیے ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ کا انتخاب کیا ہے، جو ایک سابق فوجی افسر ہیں۔ پیٹ ہیگستھ کو پینٹاگون کے اعلیٰ افسر کے طور پر جانا جاتا ہے اور ان کی تقرری کا امکان امریکی سینیٹ کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہوگا، تاہم چونکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے، ان کی تقرری میں کسی رکاوٹ کا امکان نہیں ہے۔

اسٹیو وٹکوف اور مائیک ہکابی جان اسٹیو وٹکوف کو مشرق وسطیٰ میں امریکی خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا ہے۔ وٹکوف کا سفارتی تجربہ نہیں ہے، لیکن وہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بڑے مالی حامی تھے۔ ٹرمپ نے مائیک ہکابی جان کو اسرائیل میں امریکی سفیر نامزد کیا ہے، جنہیں اسرائیل کے لوگ پسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہے۔

جان ریٹکلیف کا دوبارہ تقرر جان ریٹکلیف کو سی آئی اے (CIA) کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ریٹکلیف نے ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا تھا اور ان پر سیاسی مقاصد کے حصول کے الزامات بھی لگے تھے۔

دیگر اہم تقرریاں ٹرمپ نے فلوریڈا سے سینیٹر مارکو روبیو کو وزیر خارجہ کے لیے منتخب کیا ہے، جبکہ ساؤتھ ڈکوٹا کی گورنر کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سیکیورٹی چیف کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار کے قائم مقام امیگریشن چیف تھامس ہومن کو 'بارڈر زار' مقرر کیا ہے تاکہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک بھیجنے کی ٹرمپ پالیسی پر عملدرآمد کر سکیں۔

ٹرمپ کی یہ تقرریاں ان کے انتخابی وعدوں کی عکاسی کرتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی کابینہ میں اہم حکومتی اصلاحات لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان تقرریوں کا مقصد امریکی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور مالیات میں بچت کرنا ہے۔