ڈیٹا لیک کرنے والے آج بھی محکمے کا اہم حصہ ہیں، آغا رفیع اللہ،نادرا کا اپنا فنڈ ہے، فیس تبدیل نہیں کی، کارڈز کو ری نیو نہیں کیا ،چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ،ایم این اے آغا رفیع اللہ وزارت داخلہ حکام پر برہم، اٹھ کر جانے لگے،چیئرمین کمیٹی راجا خرم نے روک لیا
اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں نادرا سے 27لاکھ پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر نے کہا ہے کہ نادرا کا اپنا فنڈ ہے، ہم نے فیس تبدیل نہیں کی، ہم نے کارڈز کو ری نیو نہیں کیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس راجا خرم نوازکی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے ذمہ داران کے خلاف تاحال کارروائی نہ کیے جانے کا انکشاف کیا۔انہوں نے کہا کہ 27لاکھ لوگوں کا ڈیٹا چوری ہونے کا مسئلہ نہیں تھا، اصل میں کچھ اہم لوگوں کا ڈیٹا لیک ہونے پر تکلیف ہوئی تھی، ڈیٹا لیک کرنے والے آج بھی نادار میں بیٹھے ہیں اور محکمے کا اہم حصہ ہیں، ڈیٹا لیک کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ڈیٹا لیک کرنے والے مزید اچھی پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ اجلاس میں چیئرمین نادرا نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ہم نادرا کے دفاتر کو نہیں بڑھا سکتے کیوں کہ نادرا کے دفاتر کو بڑھانے سے شناختی کارڈ کی فیس بڑھانا ہوگی، جب تک پرانا کارڈ چل رہا ہے فرد نیا کارڈ نہیں بنواتا، لوگ شناختی کارڈ نہیں بنواتے تو ہمارا فنڈ بھی جنریٹ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ 27تحصیلیں ہیں جہاں نادرا نہیں ہے، زیادہ تحصیلیں کے پی اور بلوچستان سے ہیں جہاں ہمارے دفاتر نہیں، پنجاب میں مری اور تلہ گنگ ڈسٹرکٹس بنیں لیکن ان کی حلقہ بندیاں ہمارے پاس نہیں پہنچیں۔ پی ٹی آئی ممبر زرتاج گل نے کمیٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومتیں کس طرح تقرریاں کر سکتی ہیں، آپ نے کہا کچھ لوگوں نے بریچ آف سکیورٹی کی، بتایا جائے ان لوگوں نے کیا غلطی کی تھی۔چیئرمین نادرا نے بتایا کہ نادرا میں تقرریوںکا تعلق حکومت سے نہیں ہوتا صرف نادرا چیئرمین کا تقرر حکومت کرتی ہے، نادرا میں بہت بڑا سائبر بریچ ہوا، 2.7ملین پاکستانیوں کا ڈیٹا نکل گیا، ایک گریڈ 19اور پانچ دیگر افسران کو نوکری سے نکالا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایک کارڈ 1200 روپے میں پڑتا ہے، پہلی مرتبہ ہم شہریوں سے کارڈ کی فیس نہیں لیتے، ہم نے 75سیٹلائٹ لیے ہیں جو نادرا کی وینز پر لگائے جائیں گے، 90وینز خریدیں گے، جنوری کے دوسرے ہفتے میں سیٹلائٹس آجائیں گی۔ چیئرمین نادرا نے کہا کہ قانون کہتا ہے جو شخص 18سال کا ہو جانے کے بعد بھی شناختی کارڈ نہیں بنواتا تو اس کو قید اور جرمانے کی سزا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ نادرا میں بڑا زبردست کام ہورہا ہے، فیک شناختی کارڈز کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں، بہت سے افغانیوں نے جعلی شناختی کارڈ بنوائے ہوئے ہیں۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں ایسے تو ایم پی اے اور ایم این ایز بھی ہیں۔چیئرمین نادرا نے کہا کہ مختلف حکومتوں نے دستاویزات تبدیل کیں، ڈیڑھ لاکھ کارڈز ہم نے بند کیے ہوئے ہیں۔ کمیٹی اجلاس میں ایم این اے آغا رفیع اللہ نے وزارت داخلہ حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور اٹھ کر جانے لگے جس پر چیئرمین کمیٹی نے آغا رفیع اللہ کو روک لیا۔آغا رفیع اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہاری جو صرف کلمے کے نام پر یہاں آئے، آج تک بہاری اپنی شناخت کے خواہاں ہیں، کوئی محسوس کرے کہ کسی شخص کے بچے نا سکول جا سکیں نا کچھ اور کر سکیں۔سپیشل سیکرٹری داخلہ کی جانب سے نادرا ایجنڈا جلدی ختم کرانے پر آغا رفیع اللہ غصے میں بھی آگئے۔آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کب سے کہہ رہا ہوں بہاریوں کے مسائل حل کیے جائیں، میں نے کہا تھا جب تک بہاریوں کے معاملہ حل نہیں ہوتا کوئی حکومتی بل پاس نہیں ہوگا۔