پاکستان میں دہشتگردی کا ذمہ دار بھارت ہے : دفتر خارجہ قومی اسمبلی میں ٹرین پر حملہ کیخلاف مذمتی قراردا دمتفقہ طور پر منظور
یو ایس ایڈ کی سکولوں کیلئے مختص رقوم کے دہشت گردی میں استعمال کے مبینہ الزامات بے بنیاد ہیں، امریکہ میں پاکستانی شہریوں کے داخلے پر متوقع پابندیوں کی خبروں کا نوٹس لیا ہے‘ ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں :ترجمان دفتر خارجہ
عوام بلا تفریق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہو جائیں، تمام شکلوں میں انتہا پسندی کو مسترد کیا جائے: قرارداد کا متن‘بلاول بھٹو، اسد قیصر، راجہ پرویز اشرف، زرتاج گل، طارق فضل اور فاروق ستار سمیت دیگر کے دستخط
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی)قومی اسمبلی میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے پر مذمتی قراردا متفقہ طور پر منظورکر لی گئی ۔قراردا وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوذ؍ڑؓ نے قومی اسمبلی میں پیش کی۔قرارداد پر اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کے دستخط موجود تھے۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کے امن کو تہہ و بالا کرنے والی دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا عزم کرتے ہیں، کسی بھی گروہ، کوئی فرد کو ملک کے امن، خوشحالی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کی علاقائی حدود میں خوف، نفرت یا تشدد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انتھک محنت کرنے کا عہد کرتے ہیں‘ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام سے بلا تفریق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہو جائیں، تمام شکلوں میں انتہا پسندی کو مسترد کیا جائے، آنے والی نسلوں کے لیے ہماری قوم کے امن، تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بنایا جانا چاہے۔دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردارنہ کارروائیوں کا ذمہ دار بھارت ہے، جعفر ایکسپریس پر حملے میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے، جبکہ اس واقعے کے دوران ٹریس شدہ کالز میں افغانستان سے رابطوں کا سراغ ملا ہے، افغان حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خار جہ کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ ملک سے باہر دہشت گردوں کا پلان تھا، افغان حکومت پر زور دیتے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس حملہ میں ملوث دہشت گردوں کے بیرون ممالک رابطے تھے جبکہ اس واقعے کے دوران ٹریس شدہ کالز میں افغانستان سے رابطوں کا سراغ ملا ہے، افغان حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن دہشتگردی بنیادی مسئلہ ہے۔ شفقت علی خان نے کہا کہ ہم نے ابھی جعفر ایکسپریس ٹرین دہشت گردی پر ریسکیو آپریشن مکمل کیا ہے اور ہم سفارتی رابطوں کو اس طرح پبلک فورم پر بیان نہیں کرتے، ماضی میں بھی ہم ایسے واقعات کی مکمل تفصیلات افغانستان کے ساتھ شئیر کرتے رہے ہیں اور یہ ایک مسلسل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارے بہت سے دوست ممالک نے جعفر ایکسپریس دہشت گردی کی مذمت کی ہے جبکہ ہمارے کئی دوستوں سے ہمارا انسداد دہشت گردی پر تعاون موجود ہے۔ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔شفقت علی خان نے کہا یہ پروپیگنڈا ہو رہا ہے کہ پاکستان طورخم سرحد کو کھلنے نہیں دے رہا، ہم طورخم سرحد کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر چوکی بنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، ہم افغان حکام کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ کوئی بھی تعمیرات کریں۔ افغانستان پر ہماری بنیادی ترجیح دوستانہ و قریبی تعلقات کا فروغ ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ یو ایس ایڈ کی اسکولوں کے لیے مختص رقوم کے دہشت گردی میں استعمال کے مبینہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے امریکا میں پاکستانی شہریوں کے داخلے پر متوقع پابندیوں کی خبروں کا نوٹس لیا ہے تاہم ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ صرف افواہیں ہیں۔، امریکا میں ہمارا سفارتخانہ امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، ابھی تک اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں