امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل شی جن پنگ کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی چار اہم “سرخ لکیریں” واضح کر دی ہیں، جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکا میں موجود چینی سفارت خانے کے مطابق تائیوان، جمہوریت و انسانی حقوق، چین کا سیاسی نظام، اور ترقیاتی حقوق ایسے بنیادی معاملات ہیں جنہیں بیجنگ اپنی قومی خودمختاری اور بنیادی مفادات کا حصہ سمجھتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متوقع دو روزہ ملاقات میں سب سے اہم موضوع تائیوان کا مسئلہ ہوگا۔ چین نے ایک بار پھر امریکا کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔چین کے تائیوان امور کے دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے کہا کہ تائیوان چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے اور امریکا کو اپنے وعدوں اور “ون چائنا پالیسی” کی پاسداری کرنا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور تائیوان کے درمیان کسی بھی قسم کے فوجی تعلقات کو بیجنگ قبول نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکا باضابطہ طور پر “ون چائنا پالیسی” کی حمایت کرتا ہے، تاہم وہ مسلسل تائیوان کو دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر میں تائیوان کے لیے 11 ارب ڈالر کے دفاعی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔تائیوان کے علاوہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارتی کشیدگی، مصنوعی ذہانت میں عالمی مقابلہ، نایاب معدنیات کی برآمدات، اور امریکی پابندیوں جیسے اہم معاملات بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔چین نے اپنے مؤقف میں یہ بھی کہا ہے کہ باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی اور مشترکہ مفادات ہی دونوں عالمی طاقتوں کے تعلقات کو مستحکم رکھنے کا واحد راستہ ہیں۔