پیوتن اور شی جن پنگ کی ماسکو میں ملاقات، امریکا کو واضح پیغام

پیوتن اور شی جن پنگ کی ماسکو میں ملاقات، امریکا کو واضح پیغام

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوتن اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو ماسکو میں ایک اہم تقریب میں شرکت کی جس میں دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی کی شکست کی 80ویں سالگرہ منائی گئی۔

اس موقع پر روسی صدر پیوتن نے یوکرین جنگ کو 'نیو ناززم' کے خلاف ایک نئی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین تاریخی سچائی کی حفاظت کے لیے متحد ہیں اور دونوں ممالک جدید دور کے ناززم اور عسکریت پسندی کے خلاف کھڑے ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر کو اپنے "عزیز دوست" قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور روس یکطرفہ اقدامات اور عالمی غنڈہ گردی کے خلاف کھڑے ہیں، اور ایک کثیر قطبی عالمی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔شی جن پنگ نے مزید کہا: "ہم مل کر جنگِ عظیم دوم کی صحیح تاریخ کو اجاگر کریں گے، اقوامِ متحدہ کے ادارے کے وقار کا دفاع کریں گے اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔"

اس تقریب میں 24 سے زائد غیر ملکی رہنماؤں نے شرکت کی، تاہم شی جن پنگ کی موجودگی نے خاص توجہ حاصل کی کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان "نو لیمٹس پارٹنرشپ" کا عملی مظاہرہ تھا۔یوکرین نے اس موقع پر دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ماسکو کی پریڈ میں اپنے فوجی نہ بھیجیں کیونکہ یہ روسی مؤقف کی حمایت کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب چین نے روس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تیل و گیس کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے۔