امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران ہونے والی خصوصی ملاقات اور تاریخی باغ کے دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ٹرمپ نے چین کے محفوظ ترین سرکاری کمپلیکس ژونگ نان ہائی میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جس میں انھیں ایک نایاب اور خفیہ باغ کا بھی تجربہ کروایا گیا۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے غیر رسمی ماحول میں ہلکی پھلکی گفتگو کی، جس میں شی جن پنگ نے ٹرمپ کو 200 سے 400 سال پرانے درخت دکھائے اور 1000 سال سے زیادہ عمر کے درختوں کی موجودگی کا بتایا۔ ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا یہ درخت واقعی اتنے پرانے ہیں۔ شی جن پنگ نے ٹرمپ کو 280 سال پرانے درخت کو چھونے کی دعوت دی، جس پر ٹرمپ نے خوشی ظاہر کی۔
ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے سوال کیا کہ کیا دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی اس مقام پر لایا جاتا ہے، جس پر شی جن پنگ نے بتایا کہ یہ جگہ بہت کم رہنماؤں کے لیے مخصوص ہے، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتین بھی شامل ہیں۔ ژونگ نان ہائی کا یہ مقام ماضی میں شاہی باغ تھا اور آج حکومتی دفاتر کا مرکز ہے، جو چین کی غیر معمولی سفارتی اہمیت اور اعتماد کی علامت تصور ہوتا ہے۔ یہاں کی یہ ملاقات چین کی جانب سے خاص اہمیت اور عالمی رہنماؤں کے لیے محدود رسائی کی نشاندہی کرتی ہے۔