یوکرین پر روس کے عارضی جنگ بندی سے پہلے شدید حملے، 27 افراد ہلاک

یوکرین پر روس کے عارضی جنگ بندی سے پہلے شدید حملے، 27 افراد ہلاک

یوکرین میں روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب روس کی جانب سے دو روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ 
حملوں کی تفصیلات کے مطابق، منگل کو جنوب مشرقی شہر زاپوریزہیا میں روسی حملوں میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے، جن میں ایک کار ورکشاپ اور رہائشی عمارتیں نشانہ بنیں، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اسی طرح، مشرقی علاقے دونیتسک کے شہر کراماتورسک میں 6 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، اور دنیپرو شہر میں 4 افراد جان سے گئے۔ پولٹاوا اور خارکیف کے علاقوں میں بھی یوکرین کی سرکاری گیس تنصیبات پر حملے کیے گئے، جن میں 3 ملازمین اور 2 امدادی کارکن ہلاک ہوئے۔ ان حملوں سے گیس کی فراہمی متاثر ہوئی اور تقریباً 3500 صارفین کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کو بے معنی اور سفاکانہ قرار دیا، اور کہا کہ روس ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے اور دوسری جانب حملے جاری رکھتا ہے۔

روس نے 8 اور 9 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے دن کی تقریبات کے موقع پر کیا گیا تھا۔ تاہم، یوکرین نے اس کے جواب میں فوری اور غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کی پیش کش کی ہے اور روس سے بھی ایسا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فوجی اطلاعات کے مطابق، روس نے حالیہ حملوں میں 11 بیلسٹک میزائل اور 164 ڈرونز داغے، جن میں سے بیشتر کو مار گرایا گیا، مگر کئی اہداف کو نقصان پہنچا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین نے بھی ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں کریمیا اور دیگر علاقوں میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔