سینیٹ کی کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی کا آئی پی پیز کو سالانہ 3400ارب ادائیگیوں پر اظہار تشویش ‘ آئی پی پیز غریبوں کا خون چوس رہی ہیں ‘ لگام دینے کی ضرورت ہے:ارکان

پٹرولیم لیوی حکومت نے9ماہ میں12کھرب کمالئے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش
 جنوری میں صارفین سے ایک کھرب 24 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کئے گئے،فروری میں وصولی کا حجم ایک کھرب 20ارب روپے رہا‘مارچ میں صارفین سے ایک کھرب 37ارب پیٹرولیم لیوی وصول کی گئی
انسدادِ زنا بالجبر تفتیش و سماعت مقدمہ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں منظور‘حکومت نے 5 سے 9 سال اور 9 سے 16 سال کے بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ تیار کیا ہے:وزیر مملکت وجیہہ قمر
0 فیصد کپیسٹی ادائیگیوں کے ساتھ 1200 ارب کی سبسڈی دی جاتی ہے‘ حکومت کامیابی کے ساتھ مسلسل ایک ہی جگہ ادائیگی کر رہی ہے‘ جیسے پانچ وقت نماز پڑھی جاتی ہے ایسے پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کی جاتی ہیں:سینیٹر عبدالقادر
اسلام آباد(آن لائن)پٹرولیم لیوی کی مد میں گذشتہ 9ماہ کے دوران عوام سے 12کھرب سے زائد وصول کئے گئے ، پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی وصولی کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔ پٹرولیم ڈویژن سے جاری دستاویزات کے مطابق گذشتہ9 ماہ کے دوران صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12کھرب 5ارب 18کروڑ وصول کئے گئے ۔دستاویزات کے مطابق مارچ میں صارفین سے ایک کھرب 37ارب پیٹرولیم لیوی وصول کی گئی ۔دستاویزات کے مطابق فروری میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا حجم ایک کھرب 20ارب روپے رہا۔ دستاویزات کے مطابق جنوری میں صارفین سے ایک کھرب 24 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کئے گئے، دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں ایک کھرب 45 ارب،اگست میں ایک کھرب 15 ارب کی وصولی کی گئی۔ستمبر میں ایک کھرب 11ارب اور اکتوبر میں ایک کھرب 45ارب لیوی وصول ہوئی۔ دستاویزات کے مطابق نومبر میں پیٹرولیم لیوی ایک کھرب 51ارب،دسمبر میں ایک کھرب 57ارب کی رہی۔ دستاویزات کے مطابق صارفین سے کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں اب تک 35ارب وصول کیے جاچکے، حکومت نے کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 51ارب وصولی کا ہدف مقرر کررکھا ہے۔دریں اثناء  سینیٹ کی کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی نے آئی پی پیز کو سالانہ 3400ارب روپے ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں،اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز غریبوں کا خون چوس رہی ہیں انہیں لگام دینے کی ضرورت ہے۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ‘ اجلاس میں پی ٹی آئی دور حکومت میں آئی پی پیز معاہدوں کو غیر قانونی توسیع دئیے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ جون 2021 میں کوٹ ادو پاور پلانٹ کو غیر قانونی توسیع دی گئی۔ ڈی جی ٹیرف نیپرا نے کہاکہ یہ پاور پلانٹ نیپرا کے قیام سے قبل لگایا گیا۔انہوں نے کہاکہ کئی آئی پی پیز کے پاس فیول نہیں تھا حکومت نے آئی پی پیز کی ادائیگیاں روک لیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی پی پیز عالمی ثالثی عدالت میں گئیں اور حکومت کے خلاف کیس جیت گئیں اور اسی تمام صورتحال کے باعث آئی پی پیز سے معاہدوں کا ٹیرف کم کیا گیا۔۔ رکن کمیٹی سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا60 فیصد کپیسٹی ادائیگیوں کے ساتھ 1200 ارب کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کامیابی کے ساتھ مسلسل ایک ہی جگہ ادائیگی کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جیسے پانچ وقت نماز پڑھی جاتی ہے ایسے پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیپرا کی یا استطاعت نہیں یا نیپرا انہیں پاور پلانٹس کے مفادات دیکھ رہاہے۔جس پر ڈی جی ٹیرف نیپرا  نے کہاکہ آئی پی پیز کو سی پی پی اے حتمی ادائیگیاں کرتا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ آئی پی پیز کو 1800 ارب سے 2000 تک سالانہ کپیسٹی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔  انہوں نے کہاکہ ا آئی پی پیز کو 700 سے 800 ارب انرجی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت آئی پی پیز کو سالانہ 3400 ارب روپے کی ادائیگیاں کرتی ہے۔اس موقع پر کمیٹی نے آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیوںکی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ انسدادِ زنا بالجبر تفتیش و سماعت مقدمہ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔بل رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار نے پیش کیا، جس میں انسدادِ زنا بالجبر ایکٹ 2021 میں ترامیم کی گئی ، ایکٹ میں لفظ خصوصی عدالت کو عدالت برائے اطفال سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ترمیمی بل میں بتایا گیا کہ بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی پر پولیس 24 گھنٹے کے اندر طبی معائنہ کو یقینی بنائے گی، بچے کے وقار، تحفط اور رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے فرانزک سے معائنہ کرایا جائے گا۔متن میں لکھا گیا کہ جنسی زیادتی،بچوں کے استحصال پر عدالت ضمانت نہیں دے گی جب تک غیر معمولی حالات نہ ہوں، بچے کی حفاظت اور بہبود کا جائزہ لینے کے بعد ہی ضمانت دی جا سکتی ہیقومی اسمبلی میں رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے ملک بھر میں سکول نہ جانے والے 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا ۔ وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ میں ایک تفصیلی سروے کیا گیا جس میں مختلف ہاٹ سپاٹس اور بچوں کے سکول نہ جانے کی وجوہات کی نشاندہی کی گئی۔حکومت نے 5 سے 9 سال اور 9 سے 16 سال کے بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ تیار کیا ہے۔