ملک کو سول بیوروکریسی نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا چار سالہ مارشل لاء نے نہیں پہنچایا ،انوشہ رحمان
اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ کابینہ کمیٹی ملک سے قابل افسران کے بیرون ممالک چلے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلات طلب کر لی اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمن نے کہاکہ اس ملک کو سول بیوروکریسی نے جتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اتنا چار سالہ مارشل لاء نے نہیں پہنچایا ہے۔ جمعہ کو چیرمین رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہا?س میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹر قرۃ العین مری کی جاب سے متعارف کردہ سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹر قرۃ العین مری نے کہاکہ میرے بل پر وزارت یا صوبوں کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیاجس پر کمیٹی نے اگلے اجلاس میں بل پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے حتمی رائے طلب کر لی۔ بل میں سول سروس میں خواتین کے لئے دس فیصد جبکہ اقلیتیوں کے لئے پانچ فیصد کوٹہ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔اجلاس میں سپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سارہ سعید نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رائٹ سائزنگ کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 61 پوسٹیں ختم کی ہیں جبکہ فنانس ڈویژن میں ڈومیسٹک ڈیٹ کے لئے 60 پوسٹیس پیدا کی گئی ہیں اوردس تکنیکی وزارتوں میں یہ عمل مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایجنسیوں کی جانب سے سول سرونٹس کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ایجنسیوں کی جانچ پڑتال نے سول سروس کی کارکردگی کو بہت متاثر کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عدالتیں بار بار اس طریقہ کار پر اعتراض کر رہی ہیں افسران کی کارکردگی جانچنے کا کوئی اور طریقہ کار ہونا چاہیے جس پر سپیشل سیکرٹری نے کہاکہ سول سروسز اصلاحات پر ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔اس موقع پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی وزراء احسن اقبال، مصدق ملک، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری اقتصادی امور اصلاحات کمیٹی کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ہر طرف ایک مایوسی اور بے چینی ہے ۔رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ پے اسکیل ٹھیک نہ ہونے تک سول سرونٹس کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہو گی انہوں نے کہاکہ سنا ہے وزیر خزانہ کی بینک میں تین کروڑ روپے تنخواہ تھی انہوں نے سول سرونٹس کی تنخواہیں بڑھانے کی سفارش کی اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سعدیہ عباسی کے استفسار پر سیکرٹری کابینہ ڈویڑن نے بتایا کہ 21ویں گریڈ تک پہنچنے کے لئے افسران کو 5 کورسز مکمل کرنا ہوں گے اس موقع پر رکن کمیٹی سینیٹر انوشے رحمن نے کہاکہ اس وقت وزارت تجارت میں ٹیکس مائنڈ سیٹ کے افسران بیٹھے ہیںجن کو ایف بی آر میں ہونا چاہیے تھا جبکہ وزارت تجارت میں ایسے افسران کی ضرورت ہے جو تجارت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھا سکیں ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے سول بیوروکریسی نے ملک کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا چار مارشل لاء بھی ملک کو نہ پہنچا سکے ۔