ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز احمقانہ اور ناقابل قبول ہے‘ایران مذاکرات میں ایک مؤقف اختیار کر کے بعد میں اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے:امریکی صدر
امریکہ کے پاس ایرانی عوام کے حقوق قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں:سپیکر ایرانی پارلیمنٹ ‘ آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں،یہ ہرمز کی چھپی محافظ'ہوں گی: ایرانی حکام
واشنگٹن‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کو احمقانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ معاہدہ ‘‘لائف سپورٹ’’ پر ہے اور کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا میں کہوں گا جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ڈاکٹر آکر کہے آپ کے عزیز کے زندہ بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ گئے ہیں‘ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے حالیہ امن منصوبے کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے وقوفانہ تجویز ہے اور کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی نئی تجویز میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی بات واضح طور پر نہیں کی۔ اس لیے بھی ایران کے ساتھ جنگ بندی کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔سی این بی سی کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ مجھے کردوں نے بہت مایوس کیا ہے۔ ایران مذاکرات میں ایک مؤقف اختیار کر کے بعد میں اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔صدر ٹرمپ کے بقول ایرانیوں نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مواد لے سکتا ہے لیکن ان ایرانیوں کو خود باہر نکالنا ہوگا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران میں اس وقت اعتدال پسند اور سخت گیر دونوں عناصر موجود ہیں۔ ہم نے ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں‘دریں اثناء ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کے ممکنہ ردعمل میں 90 فیصد یورینیم افزودگی بھی شامل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا اور قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ایرانی پارلیمنٹ کیاسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 نکاتی تجویز میں درج ایرانی عوام کے حقوق قبول کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔ ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دی ہیں، جنہیں چھپی محافظ قرار دیا جا رہا ہے