جنگ بندی کیلئے نیا منصوبہ پاکستان کو دیدیا ایرانی سفیر تجاویز مل گئیں‘دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ

 مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویئے  کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا‘ موجودہ عمل میں پاکستان مرکزی ثالث ہے اور اس کی کوششیں قابلِ قدر ہیں:سفیر رضا امیری مقدم 
جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا  ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی، ایران نے جو کچھ کیا   اب تک  اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی، ہماری ایران کی ناکہ بندی ایک دوستانہ ناکہ بندی ہے :امریکی صدر
اسلام آباد‘واشنگٹن (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے  مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران اپنے موقف  اور مطالبات میں شفاف ہے، امریکا سنجیدہ ہے تو رویہ بدلنا ہوگا، ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ رضا امیری مقدم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا گیا ہے، موجودہ عمل میں پاکستان مرکزی ثالث ہے اور اس کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدستور ثالث ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، عالمی برادری ایران کا واضح اور منطقی مقف دیکھ رہی ہے، امریکا کا رویہ غیرمستحکم ہے۔  ایران کے سفیر نے کہا کہ ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے مگر پیشرفت کا دارومدار امریکا پر ہے، امریکا کو جارحانہ رویہ ترک کر کے ایران کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافہ جاری ہے، میرجاوہ، تفتان اور گبد ریمدان بارڈر کراسنگ پاک ایران تجارت کے لیے اہم ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہاہے  ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ  مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے۔  ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ ایران پر دوباہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ہماری ایران کی ناکابندی ایک دوستانہ ناکابندی ہے۔