امیدوار آلے پر باہر اپنے رابطہ کار سے سوالوں کے جوابات پوچھ رہا تھا،ڈیوائس برآمد،ایک جعلی امیدوار بھی پکڑا گیا
لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور بورڈ کی تاریخ میں نقل کا انوکھا سکینڈل سامنے آ گیا،امیدوار جدید ترین ڈیوائس کے ذریعے سنٹر میں نقل کرتا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز غازی آباد گریجوایٹ کالج میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں امیدوار جدید ترین ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے نقل کررہا تھا۔ ٹرانسمیشن ڈیوائس کو قمیض کے اندر چھاتی پر لگا کر ٹیپ لگا رکھی تھی جبکہ نینو ائیر برڈ کے ذریعے پیغام وصول کر رہا تھا۔ امیدوار باہر اپنے رابطہ کار سے سوالوں کے جوابات پوچھ رہا تھا۔چیف منسٹر ٹاسک فورس برائے تعلیمی بورڈز مزمل محمود کی سربراہی میں لاہور بورڈ کے سیکرٹری اور ٹیم نے سنٹر پر چھاپہ مارا اور ڈیوائس برآمد کی۔ امیدوار نے ٹیم کو بتایا ڈیوائس ڈیڑھ لاکھ کی اور پیپر کے جوابات حل کرنے کیلئے اس نے 28 ہزار روپیدئیے ۔اس طرح کی ڈیوائس اور امیدواروں کے پاس بھی ہے۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا تھا اس سکینڈل میں اور لوگ بھی ملوث ہیں ،امیدوار نے دیگر کے نام اور پتے بتا دئیے ہیں،سکینڈل میں ملوث تمام امیدواروں کو پکڑا جائے گا۔ لاہور بورڈ نے امیدوار کے خلاف اندراج مقدمہ کیلئیدرخواست دے دی ۔ادھر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول جلو موڑ میں وزیر تعلیم کے دورے کے دوران میٹرک کمپیوٹر سائنس کے پریکٹیکل امتحان میں سنٹر سپرنٹنڈنٹ خود ہی امیدواروں کو نقل کراتا پکڑا گیا۔ ،پریکٹیکل امتحان منسوخ کردیا گیا،تمام طلبا کا ایک ہی پیٹرن پر پیپر حل ہونے پر صوبائی وزیر تعلیم نے ایگزامینر کی سرزنش کی اورمعطل کردیا، پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا حکم دے دیا۔ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار بوائز کاہنہ میں دوست کی جگہ امتحان دینے والا جعلی امیدوار رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،ولید عاشق،محمد سعدغوری کی جگہ پر امتحان دے رہا تھا۔ سکالر ہائر سیکنڈری سکول بیدیاں روڈ ہیئر میں امیدوار سے موبائل فون برآمد ہوا ، یو ایم سی بنا دیا گیا۔