امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے اپنے 4 روزہ دورے کے آغاز پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا۔
ریاض پہنچنے پر صدر ٹرمپ کو روایتی عربی قہوہ پیش کیا گیا، اور ان کی محمد بن سلمان سے ایک بند کمرہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ دورہ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلا بڑا بین الاقوامی دورہ ہے، جس میں وہ سعودی عرب کے بعد قطر اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔اس دورے کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، خاص طور پر قطر کی جانب سے تحفے میں دیے جانے والے پرتعیش طیارے کے حوالے سے، جس پر امریکی دفاعی ماہرین اور خفیہ ادارے سوالات اٹھا چکے ہیں۔یہ دورہ نہ صرف خطے کی جغرافیائی سیاست میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے بلکہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بھی نئی سمت پیدا کرسکتا ہے۔