ٹرمپ اور پوٹن کے معاہدے کے بعد روسی ڈیزل کے 3 ٹینکر امریکہ روانہ، پہلی کھیپ 7 نومبر کو پہنچنے کا امکان

ٹرمپ اور پوٹن کے معاہدے کے بعد روسی ڈیزل کے 3 ٹینکر امریکہ روانہ، پہلی کھیپ 7 نومبر کو پہنچنے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ڈیزل کی فراہمی سے متعلق معاہدے کے بعد روسی ڈیزل لے جانے والے تین ٹینکروں کی روانگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

روسی حکام کے مطابق یہ ترسیل امریکہ اور عالمی منڈیوں کو ایندھن کی فراہمی بڑھانے کے انتظامات کا حصہ ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ٹینکر نیویارک کی جانب بڑھ رہا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار ٹینکر Agioi Fanendes نے 22 اکتوبر 2026 کو روسی بندرگاہ پری مورسک سے تقریباً 40 ہزار میٹرک ٹن انتہائی کم سلفر والا ڈیزل لوڈ کیا۔ جہاز کی نیویارک آمد 7 نومبر کو متوقع بتائی گئی ہے۔ تاہم جہاز کی منزل سے متعلق معلومات تبدیل ہوسکتی ہیں اور خریدار و فروخت کنندہ کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی۔

2023 کے بعد روسی ڈیزل کی پہلی کھیپ
بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کھیپ جولائی 2023 کے بعد امریکہ کے لیے روسی ڈیزل کی پہلی نشاندہی شدہ ترسیل ہوسکتی ہے۔ اگر یہ جہاز طے شدہ منزل پر پہنچ جاتا ہے تو اسے دونوں ممالک کے درمیان ایندھن کی تجارت میں اہم پیش رفت تصور کیا جائے گا۔مذکورہ ٹینکر میں لادا گیا 40 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل تقریباً 3 لاکھ بیرل کے برابر ہے۔ یہ ایندھن روس کی بحیرۂ بالٹک کے ساحل پر واقع بندرگاہ پری مورسک سے روانہ کیا گیا، جو روسی پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے اہم مقام ہے۔

روسی نائب وزیراعظم نے تین ٹینکروں کی روانگی کی تصدیق کردی
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ڈیزل کی ترسیل کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے کے تحت تین ٹینکر روانہ ہوچکے ہیں۔ روسی حکام نے مزید کھیپوں کی روانگی کا بھی عندیہ دیا ہے۔تاہم دستیاب بحری معلومات میں فی الحال پہلے ٹینکر کی تفصیلات زیادہ واضح ہیں، جبکہ دیگر دو جہازوں کی منزل اور ان میں موجود ڈیزل کی مقدار کے بارے میں مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ روسی حکام کے مطابق مستقبل میں بھی ایندھن کی ترسیل جاری رہنے کی توقع ہے۔

ٹرمپ اور پوٹن کے معاہدے کی تفصیلات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی سے متعلق انتظام کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کا ایک اہم مقصد امریکہ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دینا بتایا گیا، جہاں حکومت کو توانائی کی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق روس فوری طور پر 3 لاکھ میٹرک ٹن ڈیزل فراہم کرے گا، جس کے بعد نومبر میں مزید 5 لاکھ میٹرک ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ میٹرک ٹن کی فراہمی کا منصوبہ ہے۔اس انتظام کے تحت روس نے اپنی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندی بھی ختم کی، جبکہ امریکی حکومت نے روسی ڈیزل کی تجارت سے متعلق بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کی۔

امریکی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی کوشش
روس سے ڈیزل کی درآمد دوبارہ شروع کرنے کا اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ایندھن کی قیمتیں سیاسی اور معاشی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو توقع ہے کہ عالمی منڈی سے اضافی سپلائی حاصل کرنے سے قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق صرف ایک ٹینکر کی کھیپ سے امریکی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں پر نمایاں اثر پڑنے کی توقع محدود ہے۔ قیمتوں میں حقیقی تبدیلی کا انحصار مجموعی سپلائی، طلب، نقل و حمل کے اخراجات اور عالمی منڈی کی صورتِ حال پر ہوگا۔

روسی تیل کی تجارت پر پابندیوں کا پس منظر
روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ نے 2022 میں روسی توانائی مصنوعات کی درآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ یورپی یونین نے بھی روسی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر پابندیاں نافذ کیں۔ان پابندیوں کے بعد روسی ڈیزل کی برآمدات کا رخ زیادہ تر ترکیہ، برازیل اور بعض افریقی ممالک کی جانب رہا۔ اب امریکہ کے لیے نئی کھیپوں کی روانگی دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت میں ایک نئی پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔تاہم اس انتظام کے طویل مدتی اثرات کا انحصار پابندیوں میں نرمی کی مدت، آئندہ ترسیلات، تجارتی معاہدوں اور عالمی توانائی منڈی کے ردعمل پر ہوگا۔