پشاور: خیبر پختونخوا میں بجٹ اجلاس بلانے کے معاملے پر حکومت اور گورنر کے درمیان سنگین اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے بجٹ اجلاس کے لیے حکومت کی بھیجی گئی سمری تاحال اسمبلی سیکریٹریٹ کو موصول نہیں ہوئی۔ گورنر کا مؤقف ہے کہ سمری موصول ہوچکی ہے، لیکن اجلاس بلانے کی تاریخ کا تعین میری صوابدید ہے، حکومت کی تجویز کردہ تاریخ پر اجلاس بلانا لازمی نہیں۔گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق اجلاس بلانے کی سمری پر 14 روز میں دستخط کرنے کا اختیار حاصل ہے، آج ہی دستخط کرنا ضروری نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینی و قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی سمری پر دستخط کروں گا، دباؤ یا دھمکیوں میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب صوبائی حکومت نے گورنر کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بجٹ اجلاس کے لیے اسمبلی میں ریکوزیشن جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آج (جمعہ) سہ پہر 3 بجے بجٹ پیش کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے بھی گورنر پر سخت تنقید کی گئی، جبکہ گورنر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ریاست پر حملے کرنے والے عناصر سے مرعوب ہونے والا نہیں، وزیر اعلیٰ اپنی گیڈر بھبکیوں سے باز آئیں۔"سیاسی مبصرین کے مطابق یہ غیر معمولی کشیدگی آئندہ دنوں میں صوبائی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جب کہ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ریکوزیشن جمع کروا دیتی ہے تو اجلاس بلانے کی ضرورت اسپیکر بھی پوری کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ارکان کی تعداد پوری ہو۔