تہران: ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں تہران کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 شہری جاں بحق اور 20 افراد زخمی ہو گئے۔
ایران کے سرکاری نیوز چینل پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف خاص طور پر شہری علاقے تھے، جہاں خواتین اور بچوں کی لاشیں ملبے تلے دیکھی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے رات گئے کیے گئے جب اکثر شہری اپنے گھروں میں محوِ آرام تھے۔پریس ٹی وی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ویڈیوز میں نطنز (صوبہ اصفہان) میں اسرائیلی میزائل حملے کے مناظر اور دھماکوں کے بعد اٹھتے ہوئے گھنے دھوئیں کے بادل دکھائے ہیں۔ نطنز ایران کی اہم جوہری تنصیبات میں سے ایک ہے، اور یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی ممکنہ کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔عینی شاہدین نے بھی تہران کے مختلف علاقوں میں رہائشی عمارتوں کی تباہی، گاڑیوں کے ملبے، اور زخمیوں کی چیخ و پکار کے مناظر کی تصدیق کی ہے۔
کئی متاثرہ عمارتوں کی تصاویر اور ویڈیوز ایرانی سرکاری ٹی وی پر بھی نشر کی گئی ہیں، جن میں تباہی کی شدت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ایرانی حکام نے بین الاقوامی برادری سے شدید مذمت اور فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے حملوں کو "بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر اسرائیل کی جانب سے ان حملوں پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔