کالم: پوائنٹ آؤٹ / عابد گوندل
حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم کو ہمیشہ اہم قرار دیا جاتا ہے تاکہ ملکی نظام میں بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن جب بات 26 ویں آئینی ترمیم کی ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ حکومتی خواہشات کے برعکس مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد بظاہر ایک اہم مسئلے کا حل نکالنا تھا، مگر موجودہ حالات میں یہ نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن کے لئے بھی ایک امتحان ثابت ہو رہی ہے۔۔26ویں آئینی ترمیم کا مقصد سپریم کورٹ کے ازخود اختیارات لینا، چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت تین سال مقرر کرنا اور اگلے چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کو دینا تھا۔اس بل کا مسودہ 20 اکتوبر کو سینیٹ اور 21 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت منظور کیا گیا۔ابتدائی مسودے میں مبینہ طور پر 56 ترامیم تجویز کی گئی تھیں تاہم تمام جماعتوں کے درمیان بھرپور غور و خوض کے بعد پارلیمنٹ میں آنے والے حتمی مسودے میں ان کی تعداد کم کر کے 22 کر دی گئی۔۔سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175۔اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے سفارش پر پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت کی منظور کردہ 26 ویں ا?ئینی ترمیم کی توثیق کردی۔جس کے بعد یہ ترمیم اب باقاعدہ قانون بن گئی ہے۔مگر پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے آئینی پیکیج کی مسودہ سازی میں کچھ ایسے مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے الجھائوپیدا ہو رہا ہے اگر انہیں 27 ویں ترمیم کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 191 اے کے مطابق آئینی بینچوں میں نامزدگی اور تعین جوڈیشل کمیشن کو کرنا ہے، آرٹیکل 175A (1) کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں آئینی بینچوں کے سب سے سینئر جج یا ججوں کو شامل کرنا ضروری ہے جو کہ ابھی بننا باقی ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آئینی بینچوں کے جن سینئر ترین جج یا ججز کا تقرر ہونا ابھی باقی ہے وہ جوڈیشل کمیشن کے ممبر بھی ہوں گے، یہ ایک سنگین خامی ہے کیونکہ نیا جوڈیشل کمیشن بنایا جا سکتا اور نہ کوئی آئینی بینچ مقرر کیا جا سکتا ہے تاوقتیکہ پارلیمنٹ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس شق میں ترمیم نہ کرے۔شاید اسی ابہام کی وجہ سے ابھی تک آئینی بنچ کا تعین نہیں ہوسکا۔۔ابھی 26 ویں آئینی ترمیم کی گرد بیٹھی بھی نہیں اور نہ ہی اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر قابو پایا جاسکا ایسے میں حکومت 27 ویں آئینی ترمیم لانیکی باتیں کر رہی ہے۔چند روز قبل شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات میں اس پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئیر رہنما اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و قومی امور رانا ثناء اللہ سمیت حکومت کی دیگر شخصیات نے 17ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے متعلق فیصلے کے واضح اشارے دیے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ہم 27ویں ترمیم لا رہے ہیں، جس میں ملٹری کورٹس بنانے کی بھی بات ہوگی۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم لانے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا راستہ روکنے کیلیے شدید ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔اس حوالے سے جے یو آئی اور پی ٹی آئی نے بھی آپس میں رابطے کرلئے ہیں۔۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے
خلاف مولانا فضل الرحمان کال دیں گے، 27 ویں ترمیم پر مولانا نے کال دی تو ان کو لگ پتہ جائے گا، یہ جو خواب دیکھ رہے تھے سب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے27 ویں ا?ئینی ترمیم کے حوالے سے خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک تقریب سے خطاب میںکہا کہ میں کچھ چوں چوں سن رہا ہوں کہ کوئی 27 ویں آئینی ترمیم آرہی ہے اور جو26 ویں آئینی ترمیم میں نہیں ہو سکا وہ کیا جائے گا، تمہارا باپ بھی نہیں کر سکتا، کر کے دکھائو ذرا اور پھر اپنا حشر دیکھنا۔ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ آپ کوئی ترمیم لائیں گے اور ہم عورتوں کی چوڑیاں پہن کر گھر میں بیٹھے رہیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا 27ویں آئینی ترمیم میں ممکنہ طور پر ملٹری کورٹس کے حوالے سے ترمیم کی جاسکتی ہے؟ اس کے علاوہ کیا کوئی ایسی بھی تجویز زیر غور ہے کہ جس میں ایک بار پھر سے آئینی بینچ کی جگہ آئینی عدالت بنانے کی کوشش کی جائے گی؟۔اور کیا 27ویں آئینی ترمیم میں ججز کی سنیارٹی لسٹ پھر سے تبدیل کی جارہی ہے؟ علاوہ ازیں کیا ایک بار پھر پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم لائی جائے گی جس میں چیف جسٹس، سینئر ترین جج اور آئینی عدالت کے سربراہ کمیٹی میں شامل ہوں گے؟۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا 27ویں آئینی ترمیم میں سندھ میں بلدیاتی نظام میں فنڈز کی ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے چیزیں بھی شامل ہوسکتی ہیں؟۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس بار بھی اپنی کوشش میں کامیاب ہوپائے گی یا نہیں۔