ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف ایک بار پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کو جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی رہائشی علاقے یا تجارتی تنصیبات کو نقصان پہنچنے اور شہری ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ملی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند راتوں کے دوران ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں امریکی افواج کی جانب سے کارروائیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں بعض ماہی گیر اور دفاعی اہلکار ہلاک ہوئے۔
ایرانی حکام نے مبینہ حملوں کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے تازہ دھماکوں یا ایرانی الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق بندر عباس اور جزیرہ قشم آبنائے ہرمز کے قریب واقع انتہائی اہم مقامات ہیں، جہاں کسی بھی فوجی سرگرمی کا اثر عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔