آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک چابی، قشم جزیرہ عالمی کشیدگی میں توجہ کا مرکز کیوں؟

آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک چابی، قشم جزیرہ عالمی کشیدگی میں توجہ کا مرکز کیوں؟

ایران کا قشم جزیرہ ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اس کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت کے باعث خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

خلیج فارس میں واقع قشم جزیرہ نہ صرف ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے بلکہ یہ انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک مرکزی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق قشم جزیرہ ماضی میں سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں اسے ایران کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک اہم مقام حاصل ہو گیا ہے۔ مبینہ طور پر جزیرے کے اندر زیرِ زمین سرنگوں، بنکرز اور عسکری تنصیبات کا ایک مربوط نیٹ ورک موجود ہے، جسے میزائل سسٹمز، مواصلاتی نظام اور تیز رفتار بحری کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ماہرین بعض اوقات ان تنصیبات کو غیر رسمی طور پر “میزائل سٹی” سے بھی تعبیر کرتے ہیں، جہاں ساحلی دفاعی نظام کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی نگرانی اور کنٹرول کی صلاحیت موجود بتائی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں قشم جزیرے کی اسٹریٹجک حیثیت مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی پالیسی حلقے اسے ایران کی بحری دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ تمام تنصیبات اس کے دفاعی حق اور خودمختاری کا حصہ ہیں۔خطے کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی کشیدگی بڑھتی ہے یا بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔مجموعی طور پر قشم جزیرہ اپنی جغرافیائی پوزیشن، عسکری تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے باعث خطے میں کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں انتہائی حساس اور فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔