مسقط: امریکا اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے مخصوص خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عمان نے یورپی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آلودگی سے محفوظ رکھنے، بحری گزرگاہ کی نگرانی اور جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کے لیے سروس فیس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔عمانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے کی صورتحال میں واپس لانا ممکن نہیں رہا، تاہم عمان بین الاقوامی سمندری قوانین کی مکمل پابندی جاری رکھے گا۔حکام کے مطابق تجارتی جہازوں پر کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف ماحول کے تحفظ، بحری نگرانی اور محفوظ گزرگاہ جیسی خدمات کے بدلے مناسب فیس وصول کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قطر نے بھی اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔ قطری حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر سمندری راستوں پر آنے والے اخراجات اور انتظامی امور پر بات چیت کریں گے۔واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹول یا فیس عائد کرنے کی مخالفت پر مبنی اعلامیے پر عمان اور قطر دونوں نے دستخط کیے تھے۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے اور کوئی بھی ملک اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے گزرنے کے عوض ٹیکس وصول کرنے کا مجاز نہیں۔