امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں کے ساتھ غیر رسمی رابطوں میں اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ ایک غلطی تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی سخت گیر عناصر کی جانب سے کی گئی، جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو متاثر کرنا تھا۔امریکی حکام کے مطابق ایران نے مذاکرات جاری رکھنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کا مطالبہ ہے کہ تہران عوامی طور پر اس اقدام کو غلط قرار دے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کرے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل ٹیم کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات عمان میں ہونے کی توقع ہے۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ جارحانہ کارروائیاں کی گئیں تو امریکا فوجی اور اقتصادی طاقت کے ذریعے جواب دے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران آبنائے ہرمز کو پہلے کی طرح کھلا رکھنے پر آمادہ ہو جائے گا، تاہم امریکا کے پاس محدود وقت ہے اور وہ صورتحال کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرے گا۔دوسری جانب خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ آئندہ مذاکرات سے ہی واضح ہوگا کہ کشیدگی میں کمی کے امکانات کتنے مضبوط ہیں۔