آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر، عالمی تیل منڈی میں تشویش بڑھ گئی

آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر، عالمی تیل منڈی میں تشویش بڑھ گئی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی سے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر (Kpler) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی کم ترین تعداد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 22 جولائی کو آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے، جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی آئل ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا، جو بحری نقل و حرکت میں نمایاں سست روی کی عکاسی کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر ممکنہ حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کئی کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اپنے جہازوں کی روانگی مؤخر کرنے یا متبادل سمندری راستے اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔

دوسری جانب ان خدشات کے اثرات عالمی خام تیل کی منڈی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو اندیشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بڑی مقدار روزانہ گزرتی ہے۔ اس اہم راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی بلکہ عالمی معیشت پر بھی فوری اور گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔