ترکیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، گرفتار افراد میں افغان سرفہرست

ترکیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، گرفتار افراد میں افغان سرفہرست

ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔

 ترک حکام کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں افغان شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ترکیہ میں غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف ملک بھر میں ہنگامی آپریشنز جاری ہیں۔ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ (محکمۂ ہجرت) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال کے پہلے چھ ماہ میں 70 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا، جن میں 19 ہزار 574 افغان شہری شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں 6 ہزار سے زائد مبینہ انسانی اسمگلرز کو بھی حراست میں لیا گیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ترکیہ سے 13 ہزار سے زائد افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔افغان خبر رساں ادارے خاما پریس کے مطابق افغانستان میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، اور خواتین و لڑکیوں پر عائد مختلف پابندیوں سمیت دیگر عوامل کے باعث لاکھوں افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سخت نگرانی اور کریک ڈاؤن کے باوجود متعدد افغان مہاجرین اب بھی ترکیہ کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے ساتھ انسانی اسمگلنگ اور سرحد پار منظم جرائم جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں، جو میزبان ممالک کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں معاشی بحران، محدود روزگار کے مواقع اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات غیر قانونی ہجرت کے اہم محرکات میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان بنیادی مسائل کا مؤثر حل نہیں نکلتا، خطے میں غیر قانونی نقل مکانی کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔