واربرٹن:چار سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، لاش نہر سے برآمد، ماموں گرفتار

  مقتولہ عبیحہ فاطمہ اپنی والدہ اقرا بتول کے ہمراہ خانیوال سے مونجی کی فصل کی کاشت کے سلسلے میں عارضی طور پر ڈیرہ اعظم میں مقیم تھی
 بچی کے چہرے پر تشدد کے نشانات، آنکھ، ناک اور منہ پر زخم، دماغ میں اندرونی خون ریزی ، جنسی زیادتی کے شواہد : پوسٹ مارٹم رپورٹ 
واربرٹن (نمائندہ حریف)چار سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش تین روز بعد نہر سے برآمد، رشتے میں ماموں مرکزی ملزم گرفتار۔واربرٹن کے نواحی علاقے ڈیرہ اعظم کھوکر میں چار سالہ معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی اور قتل کے لرزہ خیز واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ تین روز قبل لاپتا ہونے والی عبیحہ فاطمہ کی لاش نہر سے برآمد ہونے کے بعد تھانہ واربرٹن پولیس نے جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے مقتولہ کے رشتے میں ماموں لگنے والے 20 سالہ محمد فیصل کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق مقتولہ عبیحہ فاطمہ اپنی والدہ اقرا بتول کے ہمراہ خانیوال سے مونجی کی فصل کی کاشت کے سلسلے میں عارضی طور پر ڈیرہ اعظم کھوکر میں مقیم تھی۔ 5 جولائی کی شام بچی اچانک لاپتا ہو گئی۔ اہل خانہ نے اپنے طور پر تلاش کے بعد تھانہ واربرٹن میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کیا اور نہر کو بھی بند کروا دیا۔ تین روز بعد بچی کی لاش کئی کلومیٹر دور نہر سے برآمد ہوئی۔ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے چہرے پر تشدد کے متعدد نشانات، آنکھ، ناک اور منہ پر زخم، دماغ میں اندرونی خون ریزی جبکہ جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ حتمی رائے کے لیے ڈی این اے سمیت دیگر فرانزک نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ایس ایچ او واربرٹن مظہر حسین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے محمد فیصل کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کر لیا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران ملزم کے والد اسحاق، بھائی الیاس اور بہن سونیا بی بی کو بھی حراست میں لیا تھا۔