قومی اسمبلی کے اجلاس کی ایک اہم سماعت کا حصہ ہے جس میں ایم این اے شیر افضل مروت نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی جرائم اور خاص طور پر ڈکیتیوں کا الزام پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں پر عائد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی اکثر ڈکیتیاں اور چوریاں دراصل پولیس اہلکاروں اور ایجنسیوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں، اور انہوں نے خاص طور پر این سی سی آئی اے (نیشنل کنسلٹینسی سینٹر آف انٹیلیجنس ایجنسی) کا نام لیا۔انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ چند مخصوص جگہوں پر، جن میں انہوں نے پانچ پوائنٹس کا ذکر کیا، انٹیلیجنس ایجنسی کے نام پر چھاپے مارے گئے۔ ان چھاپوں کے دوران وہاں سے لیپ ٹاپ، فرنیچر، قیمتی اشیاء اور دیگر سامان اٹھا لیا گیا۔ انہوں نے خود ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک دفتر ہے جس پر لکھا ہے کہ اسے سیل کیا گیا ہے، اور اس کے اندر موجود سامان، خاص طور پر لیپ ٹاپ اور دیگر اشیاء، این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے چوری کر لیے ہیں۔مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ تقریباً 15 دن پہلے نائن زیرو کے علاقے میں بھی این سی سی آئی اے نے چھاپہ مارا، اور اس دوران بھی سامان اور فرنیچر غائب ہو گیا۔ انہوں نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور کہا کہ یہ سب کچھ پولیس یا ایجنسیوں کے ذریعے ہو رہا ہے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
اس حوالے سے، وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کیس کو دیکھ کر شیر افضل مروت کو مکمل معلومات فراہم کریں گے اور معاملے کی تہہ تک جائیں گے تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔یہ خبر اس تناظر میں اہم ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت میں جرائم کی روک تھام کے بجائے، بعض اداروں کے اہلکاروں کے ذریعے جرائم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے نظام اور قانون کی بالادستی پر سوالات اٹھتے ہیں