جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان

جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان

اسلام آباد سے: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے پریس کانفرنس کے دوران حکومت اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف سنگین الزام عائد کیے ہیں۔

 انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں جعلی دوائیوں، جعلی ڈگریوں اور اب جعلی آرڈیننسز بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔ خاص طور پر انہوں نے کہا کہ ایک جعلی آرڈیننس بغیر صدر کے دستخط کے جاری کیا گیا، جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔پلوشہ خان کے مطابق، صدر زرداری کو بھی دھوکہ دیا گیا اور ان کے نام سے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا، حالانکہ انہوں نے اس کی خبر تک نہیں لی۔ حکومت کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ یہ غلطی سے ہوا ہے، مگر پیپلز پارٹی اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی غلطیوں سے باز رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایسی غلطیاں برداشت نہیں کر سکتا، اور ایسے عناصر کو سزا دی جائے جو جعلی آرڈیننس فیکٹری چلا رہے ہیں۔اس کے علاوہ، پلوشہ خان نے نیشنل شپنگ کارپوریشن کی نجکاری کی مخالفت کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی اس کی نجکاری کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت ان معاملات میں چھپے ہوئے مشوروں کے تحت فیصلے کر رہی ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنی آواز بلند کرے گی اور قوم کے سامنے حقائق لائے گی۔

دوسری طرف، پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری منظور احمد نے پی آئی اے کی نجکاری پر تفصیلی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے دفتر کی قیمت 20 کروڑ روپے لگائی گئی، جبکہ اصل قیمت 135 ارب روپے بتائی جا رہی ہے، اور اس کی جائیدادیں تقریباً 200 ارب روپے کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پی آئی اے کی جائیدادوں کو بیچنے یا نجکاری کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔چودھری منظور احمد نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹر پلوشہ خان نجکاری کمیٹی کی رکن ہیں اور انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ دستاویزات مانگی تھیں، مگر انہیں فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، مگر کچھ فیصلوں اور اقدامات کے خلاف بھی آواز بلند کرے گی۔

مجموعی طور پر، اس پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی غلط کاریوں، جعلی آرڈیننسز، نجکاری کے خلاف سخت موقف اپنایا اور ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے جلد اقدامات کا عزم ظاہر کیا۔