ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیش ٹیم کے بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
بنگلادیش کے مشیر کھیل آصف نظرل کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم کی جانب سے موصول خط کے بعد بھارت میں ٹیم بھیجنا ناممکن ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خط میں تین اہم نکات شامل ہیں جو بنگلادیش ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں:
مستفیض الرحمان ٹیم میں شامل ہوں یا بنگلادیشی شائقین قومی جرسی پہن کر اسٹیڈیم آئیں تو صورتحال کشیدہ ہو سکتی ہے۔
جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، وہاں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوگا۔
بھارت میں موجودہ سماجی اور کمیونٹی حالات گزشتہ 16 ماہ سے بنگلادیش مخالف ماحول پیدا کر چکے ہیں، جس سے کھیلنا ناممکن ہے۔
آصف نظرل نے کہا کہ آئی سی سی سے توقع کرنا کہ ٹیم اپنے بہترین کھلاڑی کے بغیر میچز کھیلے، شائقین جرسی نہ پہنیں اور انتخابات موخر کریں، "غیر حقیقی اور ناممکن" ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلادیش کے میچز محفوظ شہروں میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ موجودہ شیڈول کے مطابق بنگال ٹائیگرز کے ابتدائی تین میچز کولکتہ اور ایک میچ ممبئی میں کھیلنے ہیں۔ رپورٹس میں چنئی اور تھرواننتاپورم میں منتقلی کا ذکر ہے، تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی باضابطہ ہدایت موصول نہیں ہوئی۔بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے کہا: "فی الوقت ہمیں میچز کے مقام کی تبدیلی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اگر کوئی ہدایت آئے تو اس کے مطابق انتظامات کیے جائیں گے۔"
یاد رہے کہ بنگلادیش کی ٹیم کا موجودہ شیڈول درج ذیل ہے:
7 فروری: ویسٹ انڈیز (کولکتہ)
9 فروری: اٹلی (کولکتہ)
14 فروری: انگلینڈ (کولکتہ)
17 فروری: نیپال (ممبئی)