بلوچستان ،سرکاری ملازمین کااحتجاج ، شاہراہیں بند ،متعدد گرفتار

تنخواہوں میں اضافے کیلئے بی جی اے نیمختلف شہروں میں احتجاج تیز کر دیا 
مختلف اضلاع میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ،مسافروں کو مشکلات کاسامنا
 15 جنوری کو صوبے میں لاک ڈاؤن اور 20 کو کوئٹہ میں دھرنے کا اعلان 
کوئٹہ ( خصوصی رپورٹ)بلوچستان میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے احتجاج تیز کر دیا ہے، قلم چھوڑ ہڑتال کے بعد مختلف اہم شاہراہیں بند کی گئیں، جس سے صوبے کے کئی علاقوں میں آمد و رفت متاثر ہوئی ،بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا اور 20 جنوری کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا۔پیر کو خضدار، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد، نوشکی اور پنجگور میں کوئٹہ کو کراچی، تفتان، گوادر اور سندھ سے ملانے والی اہم شاہراہیں بند کی گئیں۔ اس دوران گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے مختلف مقامات پر متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا بلوچستان کے درجنوں محکموں کے ملازمین گرینڈ الائنس بنا کر گزشتہ سات ماہ سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبے کے محکموں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے کم تنخواہوں والے ملازمین کو 30فیصد الاؤنس دیا جائے حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ہیں اور انہیں یہ الاؤنس دینے سے صوبے پر 16 سے 20 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا ،بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ نے بتایا کہ دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت نے یہ الاؤنس دیا ہے لیکن بلوچستان حکومت اس پر آمادہ نہیں ان کے مطابق حکومت کی اپنی کمیٹی بھی اس الاؤنس کے حق میں سفارشات دے چکی ہے مگر وزیراعلیٰ ان پر عمل نہیں کر رہے، عبدالقدوس کاکڑ نے الزام لگایا کہ حکومت نے وعدوں کے باوجود مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور مختلف شہروں میں رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اب تک 50 سے زائد ملازمین گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ پندرہ پہلے ہی کوئٹہ جیل میں قید ہیں، انہوں نے بتایا کہ مختلف کالجوں کے 38 پروفیسرز کو بھی احتجاج میں شرکت پر معطل کیا گیا ہے، ملازمین کے رہنما عبدالقدوس کاکڑ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائی کی تو وہ تمام سرکاری دفاتر کو بند کر کے جیل بھرو تحریک شروع کریں گے، دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حکومت کو ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے اور انہیں مختلف سہولیات دی جا رہی ہیں۔