واشنگٹن(آئی این پی )فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام کے 1 کروڑ 75 لاکھ ( 17 ملین) صارفین کا ڈیٹا لیک ہوگیا، صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر شیئر کردی گئیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹاگرام صارفین کے ڈیٹا لیک سے صارفین کی پرائیویسی اور پلیٹ فارم کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔سائبر سیکیورٹی فرم مالویئر بائٹس کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا سیٹ میں صارفین کے یوزر نیم، مکمل نام، ای میل، فون نمبرز، جزوی رہائشی پتہ اور دیگر رابطہ معلومات شامل ہیں۔اگرچہ اس ڈیٹا میں پاس ورڈز شامل نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات شناخت کی چوری (آئیڈنٹیٹی تھیفٹ) یا مالی فراڈ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر ماہرین احتیاطا صارفین کو پاس ورڈز تبدیلی کا مشورہ دے رہے ہیں۔سائبر سیکیورٹی پبلکیشنز سائبر انسائیڈر کے مطابق اس ڈیٹا لیک کا سراغ انسٹاگرام کے اے پی آئی میں 2024 میں سامنے آنے والی ایک کمزوری سے ملتا ہے۔