یہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ‘ حکومت نے صدرکے دستخطوں کے بغیرآرڈیننس جاری کردیا‘ ملکی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا صدر کی منظوری کے بغیر ہی آرڈیننس جاری کردیا جائے:نوید قمر
سوشل میڈیا پر آرڈیننس کے حوالے سے مختلف چیزیں چل رہی ہیں ہم چیک کرلیتے ہیں:اعظم نذیر تارڑ‘اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے‘14جنوری سے پراسس شروع کیا جائیگا:سپیکر قومی اسمبلی
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن)حکومت کی جانب سے صدر کی منظوری کے بغیر اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس جاری ہونے پر پیپلزپارٹی نے ن لیگ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر کے دستخطوں (منظوری) کے بغیرجاری ہونے نوٹیفیکشن کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا۔سید نوید قمر کی قیادت میں پی پی اراکین نے واک آئوٹ کیا۔ جس کے بعد کورم پورا نہ ہونے پرقومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کیا گیا۔واک آئوٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ آج پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیونکہ حکومت نے صدرکے دستخطوں کے بغیرآرڈیننس جاری کردیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں نہیں آیا کہ صدر کی منظوری کے بغیر ہی آرڈیننس جاری کردیا جائے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلزپارٹی کے تحفظات کو سن کر کہا کہ سوشل میڈیا پر آرڈیننس کے حوالے سے مختلف چیزیں چل رہی ہیں ہم چیک کرلیتے ہیں۔دریں اثناء چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا جس میں ارکان کے تحفظا ت پر غور کیا جائے گا‘علاوہ ازیں اجلاس کے آغاز پر سپیکر نے موجودہ سیشن کے لیے پینل آف چیئر کا اعلان کیا، جس میں علی زاہد، عبدالقادر پٹیل، شہلا رضا اور نزہت صادق شامل ہیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے اس موقع پر کہا اس اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ویریفیکیشن مکمل ہونے کے بعد کام ہو جائے گا۔اسپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا اپوزیشن لیڈر کی نااہلی کے بعد معاملہ سب جوڈیس تھا، تاہم ملک عامر ڈوگر کی جانب سے کاغذات جمع کرائے جا چکے ہیں، جس کے بعد متعلقہ پراسس 14جنوری سے شروع کیا جائے گا۔ اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے طریقہ کار پر مشتمل قواعد بھی ایوان میں پڑھ کر سنائے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ انہوں نے اپنے ارکان کے دستخطوں کے ساتھ درخواست جمع کرائی ہے اور اگر ویریفیکیشن درکار ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں