بانی پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی کیخلاف 190ملین پائونڈ کیس کا آج فیصلہ
ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اپنے دفاع میں کوئی گواہ اور شہادت پیش نہیں کی گئی فیصلہ 18 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا، 2بار موخر ہوا، ریفرنس کی سماعت کے دوران 3 مرتبہ ججز تبدیل،35گواہوں پرجرح کی گئی،،بانی کوسز ہوئی توا ملک گیر احتجاج کرینگے:اسد قیصر
راولپنڈی ( مانیٹرنگ ڈیسک )بانی پی ٹی آئی اور بشری ٰبی بی کیخلاف 190 ملین پائونڈ ریفرنس کا محفوظ فیصلہ آج 13 جنوری کو سنایاجا رہا ہے اڈیالہ جیل کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ، فیصلہ سنانے کی تاریخ دو مرتبہ مئوخر ہوئی تھی، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا محفوظ فیصلہ سنائیں گے۔ریفرنس کی سماعت ایک سال میں مکمل ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اپنے دفاع میں کوئی گواہ اور شہادت پیش نہیں کی گئی، القادر ٹرسٹ 190 ملین پائونڈ ریفرنس 1 دسمبر 2023 کو فائل ہوا،6 جنوری 2024 کو ریفرنس کے 6 ملزمان مرزا شہزاد اکبر، فرحت شہزادی وغیرہ کو اشتہاری قرار دیا گیا۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر 27 فروری 2024 فرد جرم عائد ہوئی۔نیب نے ٹرائل کے دوران 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔بانی پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے 35 گواہان پر جرح بھی کی گئی، اہم گواہوں میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان،سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک ،زبیدہ جلال شامل ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان منتقل ہونے سے قبل 'ایسٹ ریکوری یونٹ' کے سربراہ شہزاد اکبر کے ذریعے پراپرٹی ٹائیکون سے خفیہ معاہدہ کیا جسے اپنے اثرورسوخ سے وفاقی کابینہ میں منظوربھی کروالیا۔پھر شہزاد اکبر نے 6 دسمبر 2019 کو نیشنل کرائم ایجنسی کی رازداری ڈیڈ پر دستخط کیے جبکہ بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی غیرقانونی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا اور 24 مارچ 2021 کو بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی کی دستاویزات پر دستخط کر کے بانی پی ٹی آئی کی مدد کی۔بانی پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ معاہدے کے ذریعے 190 ملین پاؤنڈ کو حکومت پاکستان کا اثاثہ قرار دے کر سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ استعمال کیا ، بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے اپنی کار خاص فرحت شہزادی کے ذریعے موضع موہڑہ نور اسلام آباد میں 240 کنال اراضی حاصل کی اور پھر ذلفی بخاری کے ذریعے پراپرٹی ٹائیکون سے 458 کنال اراضی القادر یونیورسٹی کیلئے حاصل کی۔اپریل 2019 میں القادریونیورسٹی کا کوئی وجود نہیں تھارہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں بانی سمیت تمام اسیران رہاہوں، جوڈیشل کمیشن کے بغیر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، بانی کی مشاورت سے سے آگے بڑھیں گے۔ ہم نے ایک بجے میٹنگ بلائی ہے، ہمیں پتہ ہے یہ سزا سنائیں گے، سزا کیخلاف احتجاج اور تمام اسمبلیوں میں آوازاٹھائیں گے اورپورے ملک میں احتجاج کرینگے۔ حکومت کے پاس بہترین موقع ہے مذاکرات سے فائدہ اٹھائے، ہمارا آزاد جوڈیشل کمیشن بنانیکا مطالبہ ہے، جدوجہد میں اتارچڑھاؤ آتے رہتے ہیں، فیصل واوڈا بیچارے کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہم مزاحمت کی طرف بڑھیں گے۔ ناکوں چنے چبوائیں گے، یہ ایک لمبی جدوجہد ہے، ہم آئینی وقانونی جدوجہد جاری رکھیں گے، مذاکرات اور سزاکامعاملہ الگ الگ ہے۔ ہم انصاف مانگ رہے ہیں، ڈیل نہیں، کل کے فیصلے کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہو گی، جوبات ہوگی اسی مذاکراتی کمیٹی میں ہو گی، بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے ۔