بھارت کے شہر بینگلورو میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں دلہن کی ماں نے شراب پی کر آنے والے دلہا کو اپنی بیٹی کو رخصت کرنے سے انکار کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ایک شادی کی تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں دلہا نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر شادی کی رسومات میں حصہ لیا۔دلہا کی حالت ایسی تھی کہ اس نے شادی کی تھالی کو زمین پر پٹخ دیا، جس پر دلہن کی والدہ نے فوری طور پر رد عمل ظاہر کیا۔ انہوں نے دلہا کے گھر والوں سے درخواست کی کہ وہ واپس جائیں اور کہا کہ وہ ایسی حالت میں اپنی بیٹی کو اس شخص کے ساتھ رخصت نہیں کر سکتیں۔ دلہن کی والدہ نے ہاتھ جوڑ کر دلہا کے خاندان والوں سے کہا کہ اگر دلہا کی حالت شادی کے دن یہ ہے تو شادی کے بعد اس کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے، اور وہ اپنی بیٹی کو ایسی زندگی دینے کا رسک نہیں لے سکتیں۔دلہن کی والدہ کے اس فیصلے پر تقریب کے دوران کچھ رشتہ داروں نے صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن دلہن کی والدہ اپنے فیصلے پر قائم رہیں اور اپنے خاندان کے اصولوں کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے دلہن کی والدہ کے جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی، اور کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بروقت اور درست فیصلہ کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے دلہن کی والدہ کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے کھڑی ہوئیں بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ معاشرتی دباؤ کے باوجود عورتیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہیں۔یہ واقعہ بھارت میں شادیوں کے حوالے سے اسٹریاٹائپ اور معاشرتی توقعات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ شادی ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس میں صرف محبت اور جذبات نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی اخلاقی پختگی اور صحت مند رویے کی بھی اہمیت ہے۔